.

افغان دارالحکومت کابل میں دو بم دھماکے؛تین افراد ہلاک ،چار زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ہفتے کے روز بم دھماکوں میں دو سکھوں سمیت تین افراد ہلاک اور چار زخمی ہوگئے ہیں۔

افغان پولیس کے مطابق کابل کے وسط میں واقع ایک اسٹور میں پہلا دھماکا ہوا ہے اور اس کی عمارت منہدم ہوگئی ہے۔اس کے نتیجے میں سکھ کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے دو افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

فوری طور پر کسی نے اس بم دھماکے کی ذمے داری قبول نہیں کی ہے لیکن سخت گیر جنگجو گروپ داعش نے حالیہ مہینوں کے دوران میں افغانستان میں سکھوں کے علاوہ دوسری اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو بم حملوں میں نشانہ بنایا ہے۔

افغان دارالحکومت کے شمال میں دوسرا بم دھماکا ہوا ہے اور اس میں پولیس کی ایک کار کو نشانہ بنایا گیا ہے۔اس بم دھماکے میں ایک شخص ہلاک ہوگیا ہے۔

افغانستان میں داعش کے بم حملوں کے بعد سکھ اور ہندوکمیونٹی سے تعلق رکھنے والے افراد کی اکثریت ملک سے نقل مکانی کرگئی ہے۔ایک وقت میں جنگ زدہ ملک میں ڈھائی لاکھ افراد سکھ اور ہندو آباد تھے لیکن اب ان کی تعداد 700 سے بھی کم رہ گئی ہے۔

داعش نے گذشتہ سال مارچ میں کابل میں سکھوں کے ایک گوردوارے پر حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں 25 افراد ہلاک اور آٹھ زخمی ہوگئے تھے۔داعش نے 2020ء میں افغانستان میں 82 حملوں کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ان میں 821 افراد ہلاک یا زخمی ہوگئے تھے۔اس گروپ نے ان حملوں میں سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں یا اہلِ تشیع کو نشانہ بنایا ہے۔