.

برطانیہ میں ڈوبتے شخص کو بچانے والے سعودی طالب علم کا قصہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانیہ میں زیرتعلیم سعودی عرب سے تعلق رکھنے والے طالب علم ترکی الشمری نے بریسٹن شہر کی ایک دریا میں‌ ڈوبنے والے شخص کو بچانے پر طالب علم کی غیر معمولی جرات وبہادری کی تحسین کی جا رہی ہے۔ الشمری کی اس بہادری اور شجاعت پر برطانوی خاندان بالخصوص بچ جانے والے شخص اور اس کی بیوی نے بے حد شکریہ ادا کیا ہے۔

برطانوی خاتون جیسیکا ویلیمز نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ 'فیس بک' پر ترکی الشمری کی تصاویر بھی پوسٹ کی ہیں اور ساتھ ہی اسے ایک ’’ہیرو‘‘ قرار دیا ہے۔ خاتون کا کہنا ہے کہ الشمری ہمارا محسن ہے۔ اس نے پانی میں ڈوبتے میرے شوہر کی جان بچا کر بہت بڑا احسان کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے ترکی الشمری سے اس واقعے کی تفصیل معلوم کی تو اس نے بتایا کہ میں اکثر فارغ وقت میں روٹی کے جمع کیے ٹکڑے پرندوں کو ڈالنے برنسٹن شہر کے ایک دریا کے کنارے پر لے جاتا۔ معمول کے مطابق اس روز بھی میں روٹی کے ٹکڑے لے کر دریا کنارے پہنچا۔ اچانک مجھے چلانے کی آواز سنائی دی۔ میں نے دیکھا کہ ایک خاتون مدد کے پکار رہی ہے اور اس کا شوہر دریا کی لہروں میں زندگی موت کی کشمکش میں مبتلا ہے اور مدد کے پکار رہا ہے۔

الشمری نے بتایا کہ میں دریا میں‌ کود پڑ اور اپنےسے بھاری ہونے کے باوجود اس شخص کو باہر نکال لایا۔ ایک سوال کے جواب میں الشمری نے کہا کہ ایک انسان ہونے کے ناطے مشکل سے دوچار شخص کی انسانی بھائی چارے کے تحت مدد کرنا فرض تھی۔ میں ایک ایسے ملک سے تعلق رکھتا ہوں جس کے باشندے انسانی ہمدردی اور بھائی چارے کے احساسات رکھتے ہیں۔ مشکل میں پھنسے افراد کی مدد کرنا ہمیں ہمارے والدین نے سکھایا ہے اور یہی ہمارے دین اسلام کی تعلیم بھی ہے۔

ترکی الشمری کی اس بہادری پر برطانیہ میں موجود دوسرے سعودی طلبا نے بھی اس کے اس جذبے کی بھرپور تحسین کی ہے۔ اس نے بتایا کہ جس شخص کو میں نے ڈوبنے سے بچایا اس نے میرا بہت زیادہ شکریہ ادا کیا ہے اور شکریے کے طور پر اس نے مجھے پھول بھیجے ہیں۔ برطانیہ میں سعودی سفارت خانے کی طرف سے بھی میری تحسین اور تعریف کی گئی ہے۔