.

بھارت:کسانوں کی’’چکا جام‘‘ ہڑتال،خیموں ،ٹرکوں اور اور ٹریکٹروں سے اہم شاہراہیں بند

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارت میں وزیراعظم نریندرمودی کی حکومت کی متعارف کردہ زرعی اصلاحات کے خلاف سراپا احتجاج ہزاروں کسانوں نے ہفتے کے روز ’’چکاجام‘‘ ہڑتال کی ہے اور خیموں ، ٹریکٹروں اور ٹرکوں سے بڑی شاہراہیں بند کردی ہیں۔

بھارت کی شمالی ریاستوں میں اکتوبر کے وسط میں گندم اور دھان کے کاشت کاروں نے ہڑتال کا آغاز کیا تھا اور دارالحکومت دہلی کی جانب جانے والی شاہراہوں کو دھرنا دے کر بند کردیا تھا لیکن اب ان کی یہ ہڑتال ان ریاستوں میں بھی پہنچ چکی ہے جہاں وزیراعظم مودی کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت نہیں ہے۔

وفاقی حکومت نے کسانوں کو بعض رعایتیں دینے کی پیش کش کی ہے لیکن گذشتہ سال منظور کردہ تین متازع زرعی قوانین کو منسوخ کرنے سے انکار کردیا ہے اورکہا ہے کہ یہ قوانین ملک میں نئی سرمایہ کاری کا سبب بنیں گے۔ واضح رہے کہ بھارت کی 29 کھرب ڈالر کی معیشت میں زراعت کا حصہ 15 فی صد ہے لیکن اس کی نصف افرادی قوت پیشہ زراعت سے وابستہ ہے۔

مودی حکومت کے منظور کردہ زرعی قوانین کے خلاف سراپا احتجاج کاشت کار اس خدشے کا اظہار کررہے ہیں کہ ان کے نفاذ کی صورت میں وہ کارپوریٹ خریداروں کے رحم وکرم پر ہوں گے اور حکومت زرعی اجناس بالخصوص گندم اور دھان کی خریداری سے بتدریج ہاتھ کھینچ لے گی۔

کسانوں نے ہفتے کی دوپہر سے تین گھنٹے کے لیے ’’چکاجام‘‘ہڑتال کی ہے لیکن دارالحکومت نئی دہلی اور اس کی بعض ہمسایہ ریاستوں میں شاہراہوں کو بند نہیں کیا ہے۔

مشرقی ریاست اوڑیسہ اور جنوبی ریاست کرناٹک میں بھی آج کاشتکاروں نے شاہراہوں پر دھرنے دیے ہیں۔انھوں نے نئے زرعی قوانین کے خلاف احتجاجی بینر اور پرچم اٹھا رکھے تھے۔ان میں سے بعض پلے کارڈز پر حکومت پر زور دیا گیا تھا کہ وہ انھیں دشمن نہیں سمجھے۔

واضح رہے کہ بھارت کی قریباً 60 فی صد آبادی کی گزر بسر زراعت پر ہے۔کسانوں کی گذشتہ قریباً چار ماہ سے جاری ہڑتال کے باوجود مودی حکومت مُصر ہے کہ اصلاحاتی قوانین سے انھیں فائدہ پہنچے گا۔کسان اپنی زرعی پیداوار کی مارکیٹنگ کرسکیں گے اور وہ نجی سرمایہ کاری کے ذریعے اپنی پیداوار میں بھی اضافہ کرسکیں گے لیکن پنجاب ، ہریانہ اور بھارت کی دوسری ریاستوں سے تعلق رکھنے والے کسان حکومت کی اس لیپاپوتی کو مسترد کرچکے ہیں۔

ان کاکہنا ہے کہ مرکزی حکومت جب تک ان ’’کالے قوانین‘‘ کو منسوخ نہیں کردیتی،اس وقت تک وہ اپنی احتجاجی تحریک جاری رکھیں گے۔ان احتجاجی کسانوں اور کاشت کاروں میں زیادہ تر کا تعلق ریاست پنجاب اور ہریانہ سے ہے۔اس بحران کے حل کے لیے کسان لیڈروں کی بھارتی حکومت سے بات چیت میں بھی کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی ہے۔

نریندرمودی اوران کے وزراء کا مؤقف ہے کہ ان قوانین کے نفاذ کے بعد کسانوں کی آمدن میں اضافہ ہوگا کیونکہ ان سے وال مارٹ ،ریلائنس انڈسٹریز اور اڈانی انٹرپرائزز ایسے ادارے براہِ راست اجناس خرید لیں گے اور کمیشن ایجنٹ یا آڑھتی بیچ میں نہیں آئیں گے۔

بھارت میں کسانوں نے ایک شاہراہ کو بند کررکھا ہے۔
بھارت میں کسانوں نے ایک شاہراہ کو بند کررکھا ہے۔