.

لیبیا میں نئی حکومت کی تشکیل کے لیے رائے شماری پر سعودی عرب کا خیر مقدم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مملکت سعودی عرب نے لیبیا میں نئی ایگزیکٹو اتھارٹی کی تشکیل کے حوالے سے رائے شماری کے نتائج کا خیر مقدم کیا ہے۔ یہ رائے شماری گذشتہ روز جنیوا میں اقوام متحدہ کی سرپرستی میں منعقد ہونے والے "لیبیئن پولیٹیکل ڈائیلاگ فورم" میں ہوئی۔

جمعے کے روز جاری بیان میں سعودی وزارت خارجہ نے اس امید کا اظہار کیا کہ یہ کامیابی لیبیا کی خود مختاری اور وحدت کو برقرار رکھے گی۔ علاوہ ازیں اس کے نتیجے میں تمام غیر ملکی جنگجو اور اجرتی قاتل لیبیا سے نکال دیے جائیں گے ،،، اور ایک ایسا مستقل حل سامنے آئے گا جو غیر ملکی مداخلت کو روک دے گا۔ اس مداخلت کے سبب علاقائی اور عرب دنیا کا امن خطرے سے دوچار ہو گیا ہے۔

وزارت خارجہ نے کہا کہ مملکت اس بات کی خواہاں ہے کہ یہ اقدام لیبیا میں امن و استحکام کو یقینی بنائے گا۔ اس سلسلے میں اقوام متحدہ کی بار آور کوششوں کو بھی سراہا گیا۔

جنیوا میں لیبیئن پولیٹیکل ڈائیلاگ فورم کے شرکاء نے صدارتی کونسل کے سربراہ کے لیے محمد المنفی اور نئی حکومت کے سربراہ (وزیر اعظم) کے لیے عبدالحمید الدبیبہ کے حق میں ووٹ دیا۔ ان دونوں کی فہرست نے 39 ووٹ حاصل کیے۔ اس کے مقابلے میں پارلیمنٹ کے اسپیکر عقیلہ صالح (بطور سربراہ صدارتی کونسل) اور وفاق حکومت کے وزیر داخلہ فتحی باشاغا (بطور وزیر اعظم) 34 ووٹ حاصل کر پائے۔

علاوہ ازیں موسی الکونی اور عبداللہ اللافی کو محمد المنفی کے نائبوں کے طور پر چن لیا گیا۔

لیبیا کے لیے اقوام متحدہ کی قائم مقام ایلچی اسٹیفنی ولیمز نے اسے تاریخی موقع قرار دیا۔ انہوں نے لیبیا میں تمام فریقوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ " آپ لوگوں نے طویل سفر طے کیا اور اپنے ملک و قوم کے واسطے باہمی اختلافات کو ختم کر دیا ... نئی منتخب ایگزیکٹو اتھارٹی کو چاہیے کہ اپنی سرکاری پاسداری کو پورا کرے"۔