.

صنعاء میں ایرانی سفیر کی جو بائیڈن پر نکتہ چینی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے دارالحکومت صنعاء میں ایران کے سفیر حسن ارلو نے امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ واضح رہے کہ یمنی حلقوں کی جانب سے ایرانی سفیر پر الزام عائد کیا جاتا ہے کہ وہ یمن میں پاسداران انقلاب کی پرچھائی ہیں۔

ارلو نے جمعے کی شام اپنی ٹویٹ میں کہا کہ بائیڈن یمن میں براہ راست امریکی عسکری وجود مسلط کرنے کی کوشش میں ہیں۔

ایرانی سفیر کا مزید کہنا تھا کہ "امریکا سب سے بڑا شیطان ہے۔ ہم امریکا کے ساتھ بات چیت کے حوالے سے پر امید نہیں۔ یقینا نئی انتظامیہ کی پالیسی سابق انتظامیہ سے مختلف ہو گی اور وہ یہ ہے کہ یمن میں بھی عراق اور شام کی طرح براہ راست سیاسی اور عسکری موجودگی مسلط کی جائے"۔

ایرانی سفیر نے "سب سے بڑے شیطان" کو اس وقت نکتہ چینی کا نشانہ بنایا ہے جب کہ ان کا ملک اس "شیطان" کے ساتھ مذاکرات کے لیے کوشاں ہے۔ گذشتہ چند ہفتوں کے دوران ایک سے زیادہ ایرانی ذمے دار اس بات کی تصدیق کر چکے ہیں کہ ایران پر سے پابندیاں اٹھا لیے جانے کی صورت میں تہران امریکا کے ساتھ جوہری معاہدے کے حوالے سے مذاکرات کے لیے تیار ہے۔

یاد رہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن نے جمعرات کی شام اعلان کیا تھا کہ وہ تہران کی حمایت یافتہ قوتوں کی دھمکیوں کے مقابل خود مختاری اور اپنی سرزمین کے دفاع میں سعودی عرب کی حمایت جاری رکھیں گے۔ بائیڈن نے وزارت خارجہ کے دفتر میں خارجہ پالیسیوں‌ کے حوالے سے اپنی حکمت عملی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کو ایران کی حمایت یافتہ فورس کے حملوں کا سامنا ہے۔

دوسری جانب امریکی وزارت دفاع (پینٹاگان) نے کل جمعے کی شام باور کرایا کہ سعودی عرب خطے میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شراکت دار ہے۔