.

ترکی : یونیورسٹی ریکٹر کے تقرر کے خلاف احتجاج کی پاداش میں چارافراد پابندِ سلاسل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے شہر استنبول میں چار افراد کو صدر رجب طیب ایردوآن کے ایک جامعہ میں مقرر کردہ ریکٹرکے خلاف احتجاج کی پاداش میں باضابطہ طور پرگرفتاری کے بعد جیل بھیج دیا گیا ہے اوران کے خلاف اب مقدمہ چلایا جائے گا۔

صدر ایردوآن نے گذشتہ ماہ اپنی جماعت انصاف اور ترقی پارٹی (آق) سے تعلق رکھنے والے ایک سابق انتخابی امیدوار ملیح بولو کو استنبول کی جامعہ بوغازی چی کا ریکٹر مقرر کیا تھا۔ان کے تقرر کے خلاف اس جامعہ کے طلبہ اور فیکلٹی کے ارکان سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ریکٹر کے تقرر کے وقت غیرجمہوری طریق کار اختیار کیا گیا ہے۔

استنبول کے اناطولو پراسیکیوٹر کے دفتر نے کہا ہے کہ گرفتار چاروں افراد اپنے خلاف مقدمے کی سماعت تک جیل ہی میں رہیں گے۔ان پر پہلے سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے اور دہشت گردی کے پروپیگنڈے سمیت مختلف الزامات عاید کیے گئے تھے۔اسی مقدمے میں ماخوذ دو اور افراد کو ان کے گھروں میں نظربند کردیا گیا ہے۔

اسی ہفتے استنبول کے علاقے قادی کوئے میں سیکڑوں افراد نے جامعہ میں احتجاج کرنے والے طلبہ کے ساتھ اظہار یک جہتی کرتے ہوئے مظاہرہ کیا تھا۔حکام نے شہر میں دو روز میں 165 افراد کو گرفتار کر لیا تھا۔ان میں سے دو کو جیل بھیج دیا گیا ہے۔

ترک حکام کے مطابق 4 جنوری کے بعد قریباً 600 افراد کو حراست میں لیا جاچکا ہے جبکہ احتجاجی مظاہرے استنبول سے انقرہ تک پھیل چکے ہیں۔ان گرفتار افراد میں سے بیشتر کو رہا کیا جاچکا ہے۔حکومت نے مظاہرین کی تنقید کو مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ مظاہروں کے پیچھے سیاسی محرکات کارفرما ہیں۔

دریں اثناء صدر ایردوآن نے جامعہ بوغازی میں دو نئے شعبے کھولنے کی بھی منظوری دی ہے۔ان کے ایک سابق اتحادی اور نئی سیاسی جماعت ڈیموکریسی اور پراگریس پارٹی (دیوا) کے سربراہ علی باباجان نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا ہے کہ اس نئے اقدام سے صدر ایردوان کے اتحادیوں کو بآسانی یونیورسٹی میں کھپایا جاسکے گا کیونکہ ماضی میں بعض دوسرے اداروں میں اسی طرح کیا گیا تھا۔