.

حیران کن سائنسی تحقیق، وزن میں اضافہ لمبی عمر کا ذریعہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سنتے آئے ہیں کہ موٹاپا اور وزن میں بے ہنگم اضافہ کئی مہلک بیماریوں‌ کا باعث بن کر انسان کو جلد موت سے ہمکنار کرنے کا سبب بنتا ہے مگر آج اس کے برعکس ایک حیران کن تحقیق سامنے آئی ہے۔ اس نئی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ وزن میں زیادتی جلد موت کا باعث نہیں بلکہ یہ لمبی عمر کا سبب ہوسکتی ہے۔

نئی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اگر کسی کا ارادہ ہے کہ وہ جسمانی وزن میں اضافہ کرنا چاہتا ہے اس کے لیے بہتر ہے کہ وہ بلوغت سے ہی وزن میں اضافہ شروع کرے اور پھر آہستہ آہستہ اپنا وزن بڑھاتا جائے۔

برطانوی اخبار "ڈیلی میل" میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق، اوہائیو اسٹیٹ یونیورسٹی کے محققین نے فریمنگھم اور میساچوسٹس کے رہائشیوں جن کی عمریں 31 سے 80 سال کے درمیان ہیں کے دو گروپوں کے اعداد وشمار کا مطالعہ کیا۔ اس سے پتا چلا کہ وہ افراد بلوغت کے وقت وزن معمول کے مطابق تھا۔ بعد میں وزن میں اضافہ ہوا مگر وہ اضافہ موٹاپے کی حد کو نہیں پہنچا۔ ایسے افراد لمبے عرصے تک زندہ رہے۔

حیرت انگیز طور پر ایسے بالغ افراد جن کا وزن زیادہ رہا وہ ان بالغوں کی نسبت لمبے عرصے تک زندہ رہے جن کا جسمانی وزن پوری زندگی معمول کے مطابق رہا۔

یہ بات بھی سامنے آئی کہ جو لوگ جوانی میں موٹاپے کا شکار تھے اور وزن بڑھاتے رہے ان میں اموات کی شرح سب سے زیادہ ہے۔ اس تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ آج کی نوجوان نسل والدین کی نسبت اپنی زندگی میں پہلے ہی زیادہ وزن اور موٹاپے کا شکار ہے اور اس میں زیادہ سے زیادہ موٹاپا ہونے کی وجہ سے جلد مرنے کا امکان زیادہ ہے۔

اگرچہ محققین یہ تجویز نہیں کرتے ہیں کہ بالغ افراد جان بوجھ کر وزن بڑھائیں۔ باڈی ماس انڈیکس (بی ایم آئی) کے مطابق وزن 25 سے زیادہ ہو۔ وہ تجویز کرتے ہیں کہ زندگی کے اگلے مرحلے میں کچھ کلو گرام کا اضافہ مناسب ہو سکتا ہے۔

اس کے علاوہ محققین نے متنبہ کیا کہ یہ اضافہ موٹاپے میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔ آغاز باڈی ماس انڈیکس 30 ہوائنٹ کے برابر یا اس کے مساوی ہونا چاہیے۔