.

پابندیاں اٹھائے جانے سے قبل اپنے جوہری اقدامات سے پیچھے نہیں ہٹیں گے : خامنہ ای

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے رہبر اعلی علی خامنہ ای کا کہنا ہے کہ امریکا کی جانب سے پہلے پابندیاں اٹھائی جائیں اس کے بعد ہی تہران اپنے جوہری اقدامات سے پیچھے ہٹے گا۔

اتوار کے روز اپنی ٹویٹ میں خامنہ ای نے کہا کہ "ایران نے 2015ء میں طے پائے گئے جوہری معاہدے کے مطابق اپنے تمام وعدے پورے کیے تھے نہ کہ امریکا اور تینوں یورپی ممالک نے.. اگر یہ ایران سے چاہتے ہیں کہ وہ اپنی پاسداریوں کی جانب واپس لوٹے تو پہلے امریکا کو تمام پابندیاں اٹھانا ہوں گی"۔

ایک امریکی سرکاری ذمے دار CNN کو دیے گئے بیان میں کہہ چکے ہیں کہ ایران کی جانب سے یورینیم کی افزودگی کی شرگرمیاں امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کے اندر تشویش کا باعث ہیں ،،، یہ سرگرمیاں ایک نئے جوہری معاہدے کو یقینی بنانے میں رکاوٹ بن سکتی ہیں۔

مذکورہ ذمے دار کے مطابق بائیڈن انتظامیہ اس وقت اندرونی سطح پر ایک سمجھوتے تک پہنچنے کے لیے کوشاں ہے کہ امریکا ایرانی جوہری معاملے کے ساتھ کس طرح سے نمٹے۔

واضح رہے کہ نئی امریکی انتظامیہ باور کرا چکی ہے کہ وہ جوہری معاہدے میں واپس آنے کے واسطے تیار ہے بشرط یہ کہ تہران مذکورہ معاہدے کی تمام تر خلاف ورزیوں کو پیشگی طور پر روک دے۔

ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے واشنگٹن پر زور دیا ہے کہ وہ جوہری سمجھوتے کی طرف لوٹنے کے لیے تیز رفتاری سے کام کرے۔ ظریف کے مطابق ایرانی پارلیمنٹ نے ایک قانون منظور کیا ہے۔ اس قانون میں حکومت کو پابند کیا گیا ہے کہ اگر 21 فروری تک امریکی پابندیوں میں نرمی نہ کی گئی تو وہ جوہری پروگرام کے معاملے میں سخت موقف اپنائے۔