.

کھلاڑیوں کی پھانسیوں کا سلسلہ ، ٹوکیو اولمپکس میں ایران کی شرکت پر پابندی کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں حکام نے گذشتہ ہفتے کھیلوں کے ایک اور چیمپین کو ماورائے عدالت موت کے گھاٹ اتار دیا۔ اس کے نتیجے میں کھیلوں کا دفاع کرنے والی تنظیموں کی جانب سے بین الاقوامی سطح پر ایک بار پھر یہ مطالبہ سامنے آ رہا ہے کہ رواں سال ٹوکیو اولمپک کھیلوں میں ایران کی شرکت پر پابندی عائد کی جائے۔

تفصیلات کے مطابق 30 سالہ باکسنگ چیمپین اور عوامی تربیت کار علی المطیری کو 28 کو خوزستان صوبے میں واقع شیبان جیل میں پھانسی دی گئی۔ اس سے قبل المطیری کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس کے نتیجے میں المطیری نے 2018ء میں باسیج ملیشیا کے دو ارکان کے قتل کا اعتراف کر لیا۔

اولمپین کھلاڑیوں کی معاونت کرنے والے ایک بین الاقوامی گروپ "Global Athlete" کے سربراہ روب کوہلر نے ایک امریکی نیوز ویب سائٹ"Washington Examiner" سے گفتگو میں کہا کہ "بین الاقوامی اولمپک کمیٹی کو اب کام کرنا چاہیے۔ ان کی خاموشی اس بات کی جانب اشارہ ہے کہ یہ لوگ کھلاڑیوں کے حقوق پر مفادات کو ترجیح دیتے ہیں"۔

کوہلر کا مزید کہنا تھا کہ المطیری کی موت کے بعد گذشتہ محض چار ماہ کے دوران ایرانی حکومت کے ہاتھوں قتل کیے جانے والے ایرانی کھلاڑیوں کی تعداد 3 تین ہو چکی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ "بین الاقوامی اولمپک کمیٹی کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر ایران کی قومی اولمپک کمیٹی کو کام کرنے سے روک دے۔ اس سلسلے میں اب کسی غفلت کی گنجائش نہیں رہی"۔

کوہلر کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے بین الاقوامی اولمپک کمیٹی کے ترجمان نے کہا ہے کہ "ایران کے مقامی باکسر علی المطیری کا معاملہ افسوس ناک ہے ... یہ بات واضح ہے کہ یہ معاملہ بین الاقوامی اولمپک کمیٹی کے دائرہ کار سے خارج ہے"۔

المطیری کی پھانسی کے بعد اقوام متحدہ کی خاتون ترجمان کا کہنا تھا کہ "ہم پھانسیوں کے اس سلسلے کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔ دسمبر کے وسط سے اب تک 28 پھانسیاں دی جا چکی ہیں۔ ان میں اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں"۔

ادھر جرمن ایتھلیٹ باڈی "Athleten Deutschland" نے بھی آج اتوار کے روز بین الاقوامی اولمپک کمیٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ اولمپک کھیلوں میں ایران کی شرکت کو ممنوع قرار دیا جائے۔ باڈی نے مزید کہا کہ"United World Wrestling" کو چاہیے کہ کچھ عرصہ پھانسی دیے جانے والے رسلر نوید افکاری کے قتل کے سبب ایران پر پابندیاں عائد کرے۔

انسانی حقوق کے سرگرم کارکنان کا کہنا ہے کہ علی المطیری کو" انٹیلی جنس ادارے کے حراستی مرکز میں جسمانی اور نفسیاتی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

جنوری کے اواخر میں ایرانی حکومت نے ریسلر مہدی علی حسینی کو پھانسی دے دی تھی۔ حکومت کا دعوی تھا کہ مہدی نے مسلح ڈکیتی کے دوران ایک نوجوان کو قتل کر دیا۔