.

ایران کی پروردہ ملیشیائیں عرب ممالک کے استحکام کے لیے خطرے کا موجب ہیں: سعودی وزیرخارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا ہے کہ ایران کی حمایت یافتہ ملیشیائیں عرب ممالک کی سلامتی اور استحکام کے لیے خطرے کا موجب بنی ہوئی ہیں۔

انھوں نے سوموار کو قاہرہ میں عرب لیگ کے ہنگامی اجلاس میں کہا ہے کہ ’’ایران کی جوہری سرگرمیاں اور بیلسٹک میزائل علاقائی استحکام کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔‘‘انھوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایران کی بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں کو رکوائے۔

ایران یمن میں بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے مقابلے میں حوثی ملیشیا کی حمایت کررہا ہے۔حوثی جنگجو آئے دن سعودی عرب کی جانب ڈرون اور میزائل داغتے رہتے ہیں۔لبنان میں ایرانی نظام حزب اللہ ملیشیا کا پشتی بان ہے۔عراق اور شام میں وہ مختلف شیعہ ملیشیاؤں کی حمایت کررہا ہے۔

حوثیوں نے اس ہفتے سعودی عرب کی جانب اپنے حملے پھر تیز کردیے ہیں اور گذشتہ دو روز میں انھوں نے سعودی عرب کی جانب بارود سے لدے چار ڈرون چھوڑے ہیں لیکن عرب اتحاد نے انھیں کسی ہدف تک پہنچنے سے پہلے ہی ناکارہ بنا دیا ہے۔

شہزادہ فیصل بن فرحان نے حوثیوں کے ان حملوں کی مذمت کی ہے اور اس ملیشیا سے بین الاقوامی انسانی قانون اور جنگی قانون کی خلاف ورزیاں فوری طورپر روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔

اجلاس میں یمنی وزیرخارجہ محمدعبداللہ الحضرمی نے کہا کہ ایران حوثیوں کی یمن کو تباہ کرنے کی کارروائیوں میں حوصلہ افزائی کررہا ہے۔

انھوں نے اجلاس کو بتایا کہ حوثیوں نے حال ہی میں مآرب میں جنگی کارروائیاں تیز کردی ہیں۔یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ ملک میں جاری بحران کا پُرامن حل نہیں چاہتے ہیں۔

شہزادہ فیصل نے اپنی تقریر میں اسرائیل، فلسطینی تنازع کے بارے میں بھی اظہارخیال کیا ہے اور سعودی عرب کی جانب سے 1967ء کی جنگ سے ماقبل کی سرحدوں کے اندر فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔

عرب لیگ کے اس اجلاس میں اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان امن عمل کی بحالی اور عرب اتحاد سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔