.

حوثی، سعودی عرب پر فوری حملے بند کریں: امریکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے حوثی ملیشیا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ یمن میں اپنی جارحانہ کارروائیاں اور سعودی عرب کے جنوبی علاقے میں سویلین اہداف کو نشانہ فوری طور پر بند کر دے۔

امریکی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی صدر یمن میں جنگ کے خاتمے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ ادھر سعودی عرب نے بھی یمن بحران کے حل کی خاطر مذاکرات کی حمایت کی ہے، ایسے میں حوثیوں کے حملے جاری رہنے پر امریکا کو بہت تشویش ہے۔

امریکی دفتر خارجہ نے حوثیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ سعودی عرب کے اندر عام شہریوں کو نشانہ بنانے کی خاطر کی جانے والی کارروائیاں فوری طور پر بند کرے اور یمن میں نئی فوجی کارروائیوں سے بھی گریز کرے کیونکہ ان کا یمنی عوام کی مشکلات میں اضافے کے سوا کوئی اور فائدہ نہیں۔

امریکی حکومت نے حوثیوں سے ایسے تمام اقدامات سے باز رہنے پر بھی زور دیا ہے جن سے خطے کے استحکام کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ دفتر خارجہ نے حوثیوں سے کہا ہے کہ وہ یمن میں قیام امن کی خاطر اقوام متحدہ کے نمائندے مارٹن گریفتھس کی کوششوں کی حمایت کرے کیونکہ اس لڑائی کے خاتمے کے طریقوں پر غور کرنے کا وقت آ گیا ہے۔

ادھر اتوار کے روز امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان سمیوئل ویرگ نے ’’العربیہ‘‘ کو بتایا کہ ان کا ملک ایران سے تمام آپشن کھلے رکھ کر بات کر رہا ہے۔ امریکا مذاکرات اور دباؤ دونوں کو ساتھ لےکر چل رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے پر مذاکرات سے قبل امریکا یورپ اور مشرق وسطیٰ میں سعودی عرب سمیت اپنے حلیفوں سے مذاکرات کرنا چاہتا ہے۔

اتوار کے روز امریکی صدر جو بائیڈن نے ایک بیان کہا تھا کہ ہم ایران کو مذاکرات کی میز پر واپس لانے کی غرض سے تہران پر عائد پابندیاں ختم نہیں کر یں گے۔ انھوں نے امریکا کے اس موقف کا ایک مرتبہ پھر اعادہ کیا کہ تہران کو مذاکرات کی سمت واپسی سے قبل معاہدے کی تمام خلاف ورزیوں کارروائیوں کو ترک کرنا ہو گا۔