.

صحرائے عرب سے اٹھنے والی غبار آلود ہوائوں سے یورپ میں ریت کی بارش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانس اور سوئٹرزلینڈ میں کل اتوار کے روز غبار آلود بادلوں اور گرد و وغبار کے دوران آسمان سے ریت اور کنکر برسنے پر لوگوں میں حیرت اور خوف کے ملے جلے تاثرات سامنے آئے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق فرانس اور سوئٹرزلینڈ میں اتوار کے روز آسمان معمول کی طرح نیلا نہیں بلکہ نارنجی پیلے رنگ میں تبدیل ہوگیا۔ یہ تبدیلی افریقا کے سب سے بڑے صحرا سے اٹھنے والی ہوائوں کا نتیجہ ہے۔ گرم اور خشک ہوائیں اپنے ساتھ دھند اور گرد لے کر ہزاروں کلومیٹر کا سفر طے کرتے ہوئے یورپی خطے میں داخل ہوگئیں۔

یہ ہوائیں شمالی افریقہ کے سب سے بڑے صحرا سے اٹھیں۔ اس کے بعد مصر لیبیا سے مراکش اور موریطانیہ تک پھیلتی چلی گئیں۔ ان گرد آلود ہوائوں سے فرانس میں آسمان کا رنگ زرد پڑگیا۔ ان ہوائوں سے جنوب مشرقی فرانس اور کوہ الپ کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اس کے بعد اس گرد آلود دھند کے کچھ حصے سوئٹرزلینڈ میں بھی داخل ہوئے۔ وہاں سے اٹلی، جرمنی، آسٹریا اور وسطی یورپ میں جمہوریہ چیک تک جا پہنچے۔

فرانسیسی حکام نے وضاحت کی ہے کہ جنوب میں تیز ہواؤں نے صحراء سے ریت اٹھائی جس کی وجہ سے آسمان میں غیرمعمولی رنگ پھیل گیا تھا۔ فرانس اور سوئٹزر لینڈ اس گرد آلود غبار سے ریت کی بارش شروع ہوئی اور گاڑیاں ریت اور مٹی سے اٹ گئیں۔ گاڑیوں‌ پر جمع ہونے والی ریت کی تصاویر سوشل میڈیا پر جنگ کی آگل کی طرح وائرل ہوئی ہیں۔ ماہرین موسمیات کا کہنا ہے کہ اتنے وسیع علاقے پر غبار آلود ریتلے طوفان کا پھیلنا عالمی حدت کا نتیجہ ہے۔

اس حوالے سے سوشل میڈیا پر بحث بھی جاری ہے۔ ایک سوئس ویب سائٹ 'MeteoSwiss' پر اس حوالے سے موجود تفصیلات العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطالعے سے بھی گذریں۔ اس میں لکھا ہے کہ یہ غبار آلود طوفان دراصل جزیرہ نما آئبیرین میں ہوا کے کم دبائو کا نتیجہ ہے۔ اس نے فرانس اور سوئٹزرلینڈ میں ریت کا طوفان پیدا کیا اور آسمان کا رنگ بدل دیا۔ کچھ خبر رساں اداروں کے مطابق ریت کے طوفان کے دوران الپ کے پہاڑوں پر گرنے والی ریت میں برف کی موٹی تہہ بھی جم گئی تھی۔

فرانس میں ایک ماہر موسمیات فریڈرک ناتھن نےوضاحت کی ہے۔ کہ صحارا سے ریت کے ذرات کا عروج ایک ایسا رجحان ہے جو کافی باقاعدگی سے ہوتا ہے۔ اس میں کافی حد تک جنوبی ہوا کے نظام کا بھی دخل ہے۔ خاص طور پر موسم خزاں یا سردیوں میں میں اس طرح کے ریتلے طوفان اٹھتے رہتے ہیں۔

فرانسیسی ماہر نے کہا کہ ریتلے طوفان نے نومبر 2017 میں فرانس کی شمال مغرب میں برٹنی کے علاقے میں آتش زدگی اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے غبار آلود موسم کی یاد تازہ کردی ہے۔