.

ایران میں روسی ساختہ سپوتنک پنجم ویکسین لگانے کی مہم کا محدود پیمانے پرآغاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں منگل کے روز کووِڈ-19 کی روسی ساختہ سپوتنک پنجم ویکسین لگانے کی مہم کا محدود پیمانے پر آغازکردیا گیا ہے اور پہلے مرحلے میں کروناوائرس کے خلاف جنگ میں طبّی عملہ کے ارکان کو ویکسین لگائی جارہی ہے۔

تہران میں ایک تقریب میں ایرانی وزیرصحت سعید نمکی کے بیٹے پرسہ نمکی کو سب سے پہلے کووِڈ-19 کی ویکسین کا پہلا ٹیکا لگایا گیا ہے۔اس موقع پر وزیرِصحت نے کہا کہ روسی ساختہ ویکسین بیک وقت ملک بھر میں 600 طبّی مراکزمیں لگائی جارہی ہے۔

واضح رہے کہ ایران خلیج اور مشرقِ اوسط کے خطے میں کرونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے اور اب تک اس مہلک وائرس سے قریباً 59 ہزار ہلاکتیں ہوچکی ہیں۔ان میں شعبہ طب سے وابستہ 300 پیشہ ور بھی شامل ہیں۔ ایرانی حکام نے اب تک ملک میں کروناوائرس کے 14لاکھ 80 ہزارکیسوں کی اطلاع دی ہے۔

ایران میں گذشتہ جمعرات کو روسی ساختہ سپوتنک پنجم ویکسین کی پہلی کھیپ پہنچی تھی۔ایرانی میڈیا کے مطابق فروری اور مارچ میں ملک میں روس سے ویکسین کی 20 لاکھ خوراکیں پہنچ جائیں گی۔

ایران میں گذشتہ چند ہفتے سے کووِڈ-19 کے 100 سے کم یومیہ کیس رپورٹ ہورہے ہیں لیکن حکام نے خبردارکیا ہے کہ لوگ عوامی مقامات پر سماجی فاصلے کی پابندی کی پاسداری نہیں کررہے ہیں،اس لیے مارچ میں کووِڈ-19 کے یومیہ کیسوں کی تعداد میں ایک مرتبہ پھراضافہ ہوسکتا ہے۔

واضح رہے کہ رہبرِاعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے مغرب پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے امریکا اور برطانیہ سے کووِڈ-19 کی ویکسینوں کی ایران میں درآمد پر پابندی عاید کررکھی ہے۔

ایرانی ماہرین نے خود بھی ایک ویکسین تیار کی ہے اور اس کی اب انسانوں پرکلینکی جانچ کی جارہی ہے۔ایرانی حکام کے مطابق یہ ویکسین موسم بہار میں عام تقسیم کے لیے دستیاب ہوگی۔ایران اس کے علاوہ کیوبا کے ساتھ مل کر بھی ایک ویکسین تیار کررہا ہے۔

ایران کوویکس اتحاد سے بھی قریباً ایک کروڑ 70 لاکھ ویکسینیں درآمد کرنا چاہتا ہے۔اس کے علاوہ وہ دوسرے ممالک سے بھی لاکھوں ویکسینیں درآمد کرنا چاہتا ہے۔