.

سعودی طالب علم کی مدد سے موت کے منہ سے باہر آنے والا برطانوی شہری کیا کہتا ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی شہری ترکی الشمری کی وجہ سے میری چھوٹی سی بچی کا باپ ابھی تک موجود ہے جو اس کی سرپرستی کر رہا ہے۔ میں جلد ہی مملکت سعودی عرب کا دورہ کرنا چاہتا ہوں. یہ وہ الفاظ تھے جو تعمیراتی سیکٹر سے وابستہ برطانوی شہری ڈین لوئے نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہے۔ برطانیہ کے شہر بریسٹن میں سعودی طالب علم ترکی الشمری نے ڈین لوئے کو ڈوبنے سے بچایا تھا۔ مقامی اور بین الاقوامی میڈیا میں اس واقعے کو بڑی پذیرائی حاصل ہوئی۔

ڈین لوئے کے مطابق مذکورہ سعودی نوجوان نے انہیں موت کے منہ میں جانے سے بچایا تھا اور اسی کی بدولت وہ آج زندہ ہیں اور میڈیا کو اس واقعے کے بارے میں بتانے کے قابل ہیں۔

لوئے نے مزید کہا کہ "آج جب میں اپنی بیٹی کو میری گھر واپسی پر خوش ہوتا دیکھتا ہوں تو میں اسے پھر سے یہ واقعہ بیان کرتا ہوں اور باور کراتا ہوں کہ اس کے سامنے میری موجودگی ایک دلیر اور بہادر نوجوان کی بدولت ہے جو سعودی عرب سے برطانیہ آیا"۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے ترکی الشمری سے اس واقعے کی تفصیل معلوم کی تو اس نے بتایا کہ میں اکثر فارغ وقت میں روٹی کے جمع کیے ٹکڑے پرندوں کو ڈالنے برسٹن شہر کے ایک دریا کے کنارے پر جاتا ہوں۔ معمول کے مطابق اس روز بھی میں روٹی کے ٹکڑے لے کر دریا کنارے پہنچا۔ اچانک مجھے چلاّنے کی آواز سنائی دی۔ میں نے دیکھا کہ ایک خاتون مدد کے لیے پکار رہی ہے اور اس کا شوہر دریا کی لہروں میں زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہے، وہ بھی مدد کے لیے پکار رہا تھا۔

الشمری نے بتایا کہ میں دریا میں‌ کود پڑ اور اپنے سے بھاری ہونے کے باوجود اس شخص کو باہر نکال لایا۔ ایک سوال کے جواب میں الشمری نے کہا کہ ایک انسان ہونے کے ناطے مشکل سے دوچار شخص کی انسانی بھائی چارے کے تحت مدد کرنا فرض تھی۔ میں ایک ایسے ملک سے تعلق رکھتا ہوں جس کے باشندے انسانی ہمدردی اور بھائی چارے کے احساسات رکھتے ہیں۔ مشکل میں پھنسے افراد کی مدد کرنا ہمیں ہمارے والدین نے سکھایا ہے اور یہی ہمارے دین اسلام کی تعلیم بھی ہے۔

ترکی الشمری کی اس بہادری پر برطانیہ میں موجود دوسرے سعودی طلبہ نے بھی ترکی کے اس جذبے کی بھرپور تحسین کی۔ اس نے بتایا کہ جس شخص کو میں نے ڈوبنے سے بچایا اس نے میرا بہت زیادہ شکریہ ادا کیا ہے اور شکریے کے طور پر اس نے مجھے پھول بھیجے ہیں۔ برطانیہ میں سعودی سفارت خانے کی طرف سے بھی میری تحسین اور تعریف کی گئی ہے۔