.

یواے ای:کروناوائرس کی وَبا پھیلنے کے بعد ایک دن میں سب سے زیادہ 17اموات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات میں منگل کے روز کرونا وائرس کاشکار 17 افراد چل بسے ہیں۔یو اے ای کی نیشنل ایمرجنسی کرائسیس اور ڈیزاسسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این سیما) کے مطابق ملک میں گذشتہ سال کرونا وائرس کی وبا پھیلنے کے بعد ایک دن میں یہ سب سے زیادہ ہلاکتیں ہیں۔

وزارت صحت نے کووِڈ-19 کے 3310 نئے کیسوں کی اطلاع دی ہے اور حالیہ ہفتوں کے دوران میں اس مہلک وائرس کا شکار ہونے والے 3368 مریض صحت یاب ہوگئے ہیں۔اب تک یو اے ای میں کرونا وائرس کے 332603 کل کیسوں کی تصدیق ہوچکی ہے۔ان میں سے 313060 تن درست ہوچکے ہیں اور 947 مریض وفات پا چکے ہیں۔

یو اے ای میں یکم جنوری کے بعد سے کرونا وائرس کے یومیہ کیسوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔6 جنوری کو پہلی مرتبہ 2000 سے زیادہ کیس رپورٹ ہوئے تھے اور 12 جنوری کو یہ تعداد بڑھ کر 3000 ہزار ہوگئی تھی۔

اماراتی حکومت نے کووِڈ-19 کے یومیہ کیسوں کی تعداد میں اضافے کے باوجود ویکسی نیشن کی مہم بھی بھرپور طریقے سے جاری رکھی ہوئی ہے اور گذشتہ 24 گھنٹے میں ملک کے مختلف علاقوں میں 113495 خوراکیں لگائی گئی ہیں۔اب تک ویکسینوں کی کل 4527144 خوراکیں لگائی جاچکی ہیں۔اس طرح ملک میں ہر 100 افراد میں سے 45۰77 کو ویکسین کے انجیکشن لگائے جاچکے ہیں۔ ان میں سے بعض کو ویکسین کے دونوں ٹیکے لگ چکے ہیں۔

یو اے ای نے حال ہی میں کروناوائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے نئی رہ نما ہدایات جاری کی ہیں اور لوگوں کی نقل وحرکت کو محدود کرنے کے لیے نئی قدغنیں عاید کی ہیں۔ حکومت نے سرکاری ملازمین کو ہدایت کی ہے کہ ان میں سے جنھوں نے کووِڈ-19 کی ویکسین نہیں لگوائی اور ان کا اس مہلک وائرس کا شکار کسی فرد سے قریبی رابطہ ہوا ہے تو وہ تنہائی اختیار کرنے کی صوت میں اپنی سالانہ چھٹیاں استعمال کرسکتے ہیں۔

اس کے علاوہ کووِڈ-19 کے مثبت نتائج کے حامل افراد سے قریبی رابطے میں آنے والے سرکاری ملازمین قرنطین کے عرصے میں گھروں سے بھی کام کرسکتے ہیں۔

امارت دبئی نے یکم فروری سے تفریح گاہیں اور طعام گاہیں بند کردی ہیں اور بیرون ملک سے آنے والوں کے لیے جاری کردہ نئی سفری ہدایات پر عمل کیا جارہا ہے۔اب یو اے ای کے مکینوں ، خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک کے شہریوں اور کسی بھی ملک سے تعلق رکھنے والے سیاحوں اور زائرین پر دبئی شہر میں آمد سے قبل کرونا وائرس کا پی سی آر ٹیسٹ کرانے کی پابندی ہے۔

دبئی کی حکومت نے سماجی اجتماعات سے متعلق بھی نئی تحدیدات نافذ کی ہیں،پب اور بار بند کردیے ہیں۔سرکاری اور نجی اسپتالوں کو غیرضروری میڈیکل آپریشن اور سرجریوں کو معطل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ نیز ریستورانوں اور جم خانوں کے لیے نئے سخت قواعد وضوابط کا نفاذ کیا ہے۔ان پابندیوں کی خلاف ورزی کے مرتکبین پر بھاری جرمانے عاید کیے جارہے ہیں۔