.

بین الاقوامی فضائی ٹریفک کی اختتامِ سال تک بحالی کا امکان نہیں:الامارات چیف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دبئی کی قومی فضائی کمپنی الامارات ائیرلائنز(ایمریطس) کے سربراہ ٹم کلارک نے کہا ہے کہ اس سال کے اختتام تک بین الاقوامی فضائی ٹریفک کی بحالی کا امکان نہیں۔ان کا کہنا ہے کہ بیشترملکوں نے ایک مرتبہ پھر کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے دوبارہ سخت پابندیاں نافذ کردی ہیں جس کے پیش نظر بین الاقوامی سفر محدود ہی رہے گا۔

ٹِم کلارک نے گذشتہ ماہ ایک انٹرویو میں اس رائے کا اظہار کیا تھا کہ کروناوائرس کی نئی لہراور پابندیوں سے فضائی ٹریفک کی بحالی میں زیادہ دیر تک کوئی رکاوٹ حائل نہیں رہے گی لیکن اب انھوں نے بین الاقوامی پروازوں کی بحالی کے بارے میں پہلی مرتبہ مایوسی کا اظہار کیا ہے۔

انھوں نے شہری ہوابازی کی مشاورتی فرم کاپا کے زیراہتمام ایک ورچوئل کانفرنس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’میں نےفضائی ٹریفک کی بحالی کے بارے میں جس امید کااظہار کیا تھا،اس میں اب اس سے زیادہ دیرلگے لگی۔ ہمیں کچھ مشکلات درپیش ہونے والی ہیں۔میری توقع کے مطابق جولائی اور اگست میں تو فضائی بحالی کا امکان نہیں اورسال کی آخری سہ ماہی میں ایسا ممکن ہوگا۔‘‘

انھوں نے یہ رائے ظاہر کی ہے کہ حکومتیں اپنی سرحدوں کی بندش اور بین الاقوامی ٹریول پر پابندیوں کا سلسلہ اس وقت تک جاری رکھیں گی جب تک انھیں یہ نہیں پتا چل جاتا کہ وہ کرونا وائرس کی نئی قسم سے کیونکر نمٹ سکتی ہیں۔

71 سالہ ٹم کلارک کا کہنا تھا کہ برطانیہ ایسے ممالک نے بین الاقوامی ٹریول سے متعلق ’’جائز طورپرخطرناک پوزیشن اختیار کی ہے۔‘‘واضح رہے کہ وہ اس سال الامارات کی سروس سے ریٹائر ہونے والے تھے لیکن انھوں نے کروناوائرس کے بحران سے نمٹنے کے لیے اپنی ریٹائرمنٹ مؤخر کردی ہے۔

برطانیہ نے اسی ہفتے بعض ممالک سے آنے والے مسافروں پر 10 روز تک لازمی طور پر ہوٹل میں قرنطین میں رہنے کی پابندی عاید کردی ہے۔آسٹریلیا میں پہلے ہی بین الاقوامی مسافروں پر اسی طرح کی پابندی عاید ہے۔

برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کی نئی شکل کو پھیلنے سے روکنے اور ویکسی نیشن کے پروگرام کو متاثر ہونے سے بچانے کے لیے اس طرح کے سخت اقدامات کی ضرورت ہے۔

برطانیہ نے جنوری میں متحدہ عرب امارات سے آنے والے مسافروں پر دوبارہ قرنطین کی پابندی عاید کردی تھی۔اس نے یہ فیصلہ یو اے ای میں کرونا وائرس کے یومیہ کیسوں کی تعداد میں اضافے کے پیش نظر کیا تھا۔تب سے یواے ای میں کرونا وائرس کے یومیہ تین ہزار کے لگ بھگ کیس رپورٹ ہورہے ہیں۔