.

حماس نے لیبیا میں انارکی کو اسلحے کی اسمگلنگ کے واسطے استعمال کیا، دستاویزات میں انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے لیبیا میں کئی برسوں سے جاری جنگ اور انارکی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہتھیاروں کی اسمگلنگ کا ایک گروپ تشکیل دے دیا۔ اس کا مقصد ترکی اور دیگر ملکوں کے راستے اسلحہ غزہ پہنچانا ہے۔

برطانوی اخبار "دی ٹائمز" کے مطابق کئی دستاویزات سے انکشاف ہوا ہے کہ حماس نے لیبیا میں پھیلی انارکی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے غزہ کو ہتھیاروں کی اسمگلنگ کے واسطے ایک جماعت تشکیل دی۔ اس منصوبے پر عمل کے لیے حماس کی قیادت نے اسلحے کی منتقلی کے واسطے برقی پیغامات میں خفیہ کوڈز استعمال کیے۔

دستاویزات کے مطابق لیبیا سے غزہ کی پٹی منتقلی کے سلسلے میں تھرمل میزائل کے لیے "جیکوزی" کا لفظ اور ٹینک شکن راکٹوں کے لیے "صید الفیلہ" کا لفظ استعمال کیا گیا۔

اخبار نے اپنی تفصیلی رپورٹ میں بتایا ہے کہ فلسطینی تنظیم حماس کے زیر انتظام اسمگلنگ کا نیٹ ورک لیبیا کے لیے حماس کے ایلچی مروان الاشقر نے تشکیل دیا۔ نیٹ ورک نے طیارہ اور ٹینک شکن راکٹوں کی غزہ منتقلی کی کوشش کی۔

حماس کی قیادت کی جانب سے ہتھیاروں کی طلب خفیہ کوڈز کی حامل ای میلز کے ذریعے مروان الاشقر تک پہنچا کرتی تھی۔ بعد ازاں الاشقر ان ای میلز کا جواب بھی کوڈ کے ساتھ دیا کرتا تھا۔

یاد رہے کہ طرابلس میں لیبیا کے حکام مروان الاشقر کو سرکاری ایلچی تسلیم نہیں کرتے۔ سال 2017ء میں وہ تین دیگر فلسطینیوں کے ساتھ حراست میں لیا گیا تھا۔ لیبیا کی وزارت داخلہ کو طرابلس میں الاشقر کی کمپنی کے دفاتر کے اطراف پھرنے والے متعدد مسلح عناصر پر شک تھا۔

دو سال بعد ان افراد کو لیبیا کی ایک عدالت کی جانب سے اسلحے کی اسمگلنگ اور اسے قبضے میں رکھنے کے الزام میں دس سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

حماس تنظیم الاشقر پر عائد الزامات کی تردید کرتی ہے۔ دی ٹائمز اخبار کی نظر سے گزرے عدالتی ریکارڈ کے مطابق الاشقر یہ اعتراف کر چکا ہے کہ اسے 2011ء میں غزہ میں ایک اجلاس کے دوران حماس کی قیادت کے لیے ہتھیار خریدنے کے احکامات ملے۔ اجلاس میں اسماعیل ہنیہ سمیت تنظیم کے دیگر رہ نما بھی شریک تھے۔ مذکورہ اجلاس کے دوران الاشقر کو فلسطینی سفارتی پاسپورٹ بھی دیا گیا تھا تا کہ اس کا مشن آسان ہو سکے۔

عدالتی ریکارڈ کے مطابق الاشقر اعتراف کر چکا ہے کہ اس نے اسلحہ اور گولہ بارود جمع کر کے مصر میں اسمگلروں کے ذریعے غزہ منتقل کرایا۔

البتہ جب الاشقر سے زیادہ جدید ساز و سامان خریدنے کا مطالبہ کیا گیا جس میں امریکی اسٹنگر میزائل اور روسی ٹینک شکن میزائل شامل ہیں ،،، تو اس پر الاشقر نے حماس میں ایک سینئر عسکری شخصیت کی مدد طلب کی جس کا نام علام بلال ہے۔ بلال کی قطر اور ترکی کے درمیان آمد و رفت رہتی تھی۔ خیال ہے کہ وہ علاقائی سطح پر اسلحہ خریدنے کے عمل کا نگراں تھا۔