.

بحیرہ احمر میں منفردسیاحتی منصوبہ’کورل بلوم‘پر3ارب 70 کروڑڈالرلاگت آئے گی: سی ای او

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے منگل کو افتتاح کردہ بحیرہ احمر میں ماحول دوست کورل بلوم منصوبہ پر قریباً تین ارب 70 کروڑ ڈالر لاگت آئے گی۔بحیرہ احمر میں واقع ایک جزیرہ میں اس تعمیراتی منصوبہ کا پہلا مرحلہ 2023ء میں مکمل ہوجائے گا اور اس کو سیاحوں کے لیے کھول دیا جائے گا۔

اس سیاحتی منصوبہ کے بارے میں یہ باتیں بحیرہ احمر ترقیاتی کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر(سی ای او) جان پاگانو نے العربیہ کو ایک خصوصی انٹرویو میں بتائی ہیں۔انھوں نے بتایا کہ ’’اس منصوبے کا تخمینہ 12 سے 14 ارب ریال(3ارب 20 کروڑ سے 3 ارب 70 کروڑ ڈالر) کے درمیان ہے۔ان کی کمپنی کروناوائرس کی وَبا کے بعد سرمایہ کاری کا ایک منفرد پُرکشش منصوبہ پیش کررہی ہے۔‘‘

انھوں نے کہا کہ’’بحیرہ احمر ترقیاتی کمپنی نے قابل تجدید سیاحت کے لیے ایک خوش نما حکمت عملی اختیار کی ہے۔اس لیے میرے خیال میں ہم جو اقدامات کررہے ہیں،مسافر اور زائرین اس کا خیرمقدم کریں گے۔‘‘

انھوں نے مزید بتایا کہ ’’ہم سیاحت کا ایک ایسا بڑا مرکز بنا رہے ہیں جس کا 100 فی صد انحصار قابل تجدید توانائی پر ہوگا۔دنیا بھر میں اب تک ایسا کوئی بڑا منصوبہ اب تک نہیں بنایا گیا ہے۔‘‘

انھوں نے نشان دہی کی ہے کہ کورل بلوم میں دنیا کا سب سے بڑا بیٹری ذخیرہ کرنے کا نظام ہوگا۔ان کے بہ قول ’’اگر ہم قابل تجدید توانائی کے لیے یہ اقدامات نہیں کرتے تو ہم بدستور ماحولیاتی بحران سے دوچار رہتے بالکل اسی طرح جس طرح آج باقی دنیا کو اس بحران کا سامنا ہے۔‘‘

جان پاگانو نے بتایا کہ بحیرہ احمر کا منصوبہ دنیا بھر میں قابل تجدید سیاحت کا اولین پراجیکٹ ہوگا،ان کی کمپنی کو سعودی عرب کے سرکاری سرمایہ کاری فنڈ کی معاونت حاصل ہے اور وہی اس کے لیے سب سے زیادہ مالی وسائل مہیا کررہا ہے۔

انھوں نے اس منصوبے کے مالی وسائل کی مزید تفصیل کے بارے میں بتایا کہ’’ ہم سعودی عرب کے پانچ بنکوں سے 14 ارب ریال کے حصول کے لیے سمجھوتے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔گذشتہ سال ہم نے اے سی ڈبلیو اے پاور کی قیادت میں ایک کنسورشیم کے ساتھ ایک بڑا سمجھوتا طے کیا تھا۔‘‘

اس سمجھوتے کے تحت نہ صرف سعودی عرب کے مقامی نجی سرمایہ کاروں نے اس کے مختلف ذیلی منصوبوں پر سرمایہ کاری میں آمادگی ظاہر کی تھی بلکہ ایشیائی ترقیاتی بنک اور بعض ایشیائی سرمایہ کاروں نے بحیرہ احمر کے اس ترقیاتی منصوبے میں سرمایہ لگانے میں دلچسپی کا اظہار کیا تھا۔

ترقیاتی کمپنی کے مطابق’’بحیرہ احمر کا یہ ترقیاتی منصوبہ پہلے ہی کئی ایک سنگ میل عبورکرچکا ہے۔اس منصوبے کے طے شدہ اہداف کے عین مطابق کام جاری ہے۔توقع ہے کہ یہاں 2022ء کے آخر میں پہلے مہمان کا خیرمقدم کیا جائے گا۔تب بین الاقوامی ہوائی اڈے اور چارہوٹلوں کو افتتاح کے بعد استعمال کے لیے کھول دیا جائے گا۔پہلے مرحلے میں باقی 12 ہوٹل 2023ء میں لوگوں کے لیے کھول دیے جائیں گے۔‘‘

بحیرہ احمر کے اس منصوبے کی مزید تفصیل میں بتایا گیا ہے کہ یہ 2030ءمیں پایہ تکمیل کو پہنچے گا، یہ 50ریزارٹس پر مشتمل ہوگا۔اس میں ہوٹلوں کے 8000 تک کمرے ہوں گے اور22 جزائر اور 6 زمینی جگہوں پر قریباً 1300 اقامتی جائیدادیں ہوں گی۔اس میں لگژری میرینا، گالف کورس اور مختلف تفریح گاہیں بھی ہوں گی۔

ان تمام منصوبوں اور تعمیرات میں سعودی عرب کے قدرتی ماحول کے مختلف رنگوں کو نہ صرف اجاگر کیا گیا ہے بلکہ ان کا تحفظ بھی کیا جارہا ہے اور یہاں ماحول دوست قابل تجدید توانائی کو استعمال کیا جائے گا۔یہ جدید ٹیکنالوجی ، جدت اور فطرت کا حسین امتزاج ہوگا۔

مقبول خبریں اہم خبریں