.

ترکی مخیر کاروباری شخصیت عثمان کاوالا کو فی الفور رہا کرے: امریکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے ترکی پر زور دیا ہے کہ وہ نامور مخیر کاروباری شخصیت عثمان کاوالا کو فوری طور پر رہا کرے۔ امریکا کے بہ قول کاوالا کو 2016 کی ناکام بغاوت اور 2013 کے حکومت مخالف مظاہروں میں معاونت کے مشکوک الزامات کی پاداش میں حراست میں رکھا گیا ہے۔

امریکی دفتر خارجہ نے کاوالا کی ’’فوری رہائی‘‘ کا مطالبہ کیا ہے۔

امریکی دفتر خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے کہا کہ’’ کاوالا کے خلاف مشکوک الزامات، ان کی مسلسل نظر بندی، مقدمہ چلانے میں مسلسل تاخیر اور آئے روز نت نئے مقدمات کی بھرمار قانون کے احترام اور جمہوریت کی توہین ہے۔‘‘

’’ہم ترکی پر زور دیتے ہیں کہ وہ انسانی حقوق کی یورپی عدالت کے فیصلوں کا احترام، ملکی قوانین اور اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے عثمان کاوالا کو شفاف اور فوری انصاف کی فراہمی کو یقینی بنائے۔‘‘

چارج شیٹ

عثمان کاوالا ترک سول سوسائیٹی کی معروف شخصیت ہیں۔ انہیں اکتوبر 2017 سے حراست میں رکھا جا رہا ہے۔ ان پر موجودہ صدر رجب طیب ایردوآن کی حکومت کا جولائی 2016 میں تختہ الٹنے کی ناکام کوشش اور جاسوسی کے الزامات کے شبہے میں مقدمات زیر التوا ہیں۔ جرم ثابت ہونے پر انہیں عمر قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

مذکورہ الزامات میں قائم مقدمات کو 2013 کے حکومت مخالف مظاہروں میں ان کے کردار کی روشنی میں بنائے گئے ایک الگ مقدمے کے ساتھ ملا دیا گیا ہے۔

انہیں احتجاجی مظاہروں سے متعلق مقدمے میں پہلے رہا کر دیا گیا تھا تاہم اس فیصلے کے خلاف اپیل میں ناکامی پر انہیں دوبارہ گرفتار کرنے کا فیصلہ کیا گیا حالانکہ وہ 2016 کی ناکام بغاوت مقدمے میں پہلے قید وبند کی صعوبتیں برداشت کر رہے تھے۔

کاوالا کون ہیں؟

کاوالا اپنے خلاف عاید الزامات کی تردید کرتے ہیں۔ ترکی میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے سمجھتے ہیں کہ ایردوآن حکومت 63 سالہ عثمان کاوالا کو سزا سنا کر سول سوسائٹی کے دوسرے ارکان کے لیے خوف کی مثال بنانا چاہتی ہے۔ کاوالا اقلیتیوں کے ثقافتی حقوق، کرد امور اور آرمینیا ترک تعلقات کی حمایت کے لیے ترک سمیت دنیا بھر میں مشہور ہیں۔