.

خطے میں امن واستحکام کے لیے مل کر کوشش کرنے کی ضرورت ہے: سعودی عرب

’’ہم خودمختاری کے اصولوں کی روشنی میں بین الاقوامی کوریڈو میں آزادانہ جہاز رانی چاہتے ہیں‘‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا ہے کہ خطے میں امن واستحکام کے فروغ کے لیے مشترکہ جدوجہد کرنا ہو گی- وہ جمعرات کو ایتھنز میں یونان، قبرص، مصر، متحدہ عرب امارات اور بحرین کے وزرائے خارجہ کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے-

فیصل بن فرحان نے کہا کہ سعودی عرب کرونا وبا سے نمٹنے اور امن و استحکام و ترقیاتی کوششوں کا ساتھ دیتا رہا ہے اور دیتا رہے گا- سعودی عرب دیگر ممالک کے امور میں ہر مداخلت کی مذمت کرتا ہے-

سعودی وزیر خارجہ نے ایتھنز میں ویلیا فورم سے خطاب کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ بین الاقوامی راہداریوں میں جہاز رانی کی آزادی اور ریاستی خودمختاری کا احترام کیا جائے- وزیر خارجہ نے زور دے کر کہا کہ بین الاقوامی قانون کے مطابق ہر ملک کے اتحاد و سالمیت اور خودمختاری کا احترام ضروری ہے- انہوں نے توجہ دلائی کہ سعودی عرب کا عالمی زاویہ نظر خوشحالی اور سلامتی کا ہے-

سعودی وزیر خارجہ نے کہا کہ مشرقی بحر وسطیٰ کے ممالک کا اجلاس بامقصد اور مفید رہا- سعودی وزیر خارجہ نے کہا کہ وہ فورم میں شریک ممالک کے ساتھ تعاون اور یکجہتی کی نئی منزلیں طے کرنا چاہتے ہیں- فیصل بن فرحان نے کہا کہ سعودی عرب تناؤ و گرما گرمی کم کرنے اور گفت و شنید کے ذریعے تنازعات حل کرنے کی ہر کوشش کا ساتھ دے گا- فیصل بن فرحان نے کہا کہ آج کے اجلاس میں بین الاقوامی قوانین و روایات کے مطابق ملکی خودمختاری اور امن و استحکام کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا-

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مصری وزیر خارجہ سامح شکری نے کہا کہ ان کا ملک تمام کشمکشوں کے پرامن حل تک رسائی کا علمبردار رہا ہے آج بھی ہے اور کل بھی رہے گا- مصر نے استحکام کی خاطر قبرص اور یونان کے ساتھ تعلقات ہمیشہ مستحکم کیے- آئندہ بھی اسی پالیسی پر گامزن رہے گا- مصری وزیر خارجہ نے کہا کہ ہمارے سامنے کئی سیاسی اور اقتصادی چیلنج ہیں- ان کا تقاضا ہےکہ سب ایک دوسرے سے تعاون کریں- ہر علاقہ مشکلات سے دوچار ہے-

سامح شکری نے کہا کہ ہم تعاون پر مبنی متوازن تعلقات کے لیے کوشاں ہیں- استحکام چاہتے ہیں فوجی مداخلت سے دور رہے ہیں اور رہنا چاہتے ہیں- خطے میں استحکام کے لیے جامع تعاون کی پالیسی پر گامزن ہیں-