.

سابق اسرائیلی مندوب نے نیتن یاہو کا نمبر پوسٹ کر دیا، بائیڈن کو رابطہ کرنے کی دعوت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی شہریوں کی جانب سے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ امریکی صدر نے 3 ہفتے قبل اقتدار سنبھالنے کے باوجود اب تک اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو سے رابطہ نہیں کیا۔

عالمی میڈیا کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم کا انتظار طویل ہو گیا ہے اور وہ نئے امریکی صدر کی جانب سے ٹیلی فون کال کی راہ تک رہے ہیں۔ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے خصوصی ترجیح اور اہتمام ملنے کے بعد اب نیتن یاہو کو بائیڈن کے ساتھ تعامل پر مجبور ہونا پڑے گا۔ ایسا لگتا ہے کہ بائیڈن کو نیتن یاہو کے قریب آنے یا اسرائیلی فلسطینی قضیے میں قدم رکھنے کی کوئی جلدی نہیں ہے۔

اقوام متحدہ میں اسرائیل کے سابق مندوب ڈینی ڈینن نے اپنی ٹویٹ میں استفسار کیا ہے کہ "کیا اب اسرائیل کے سربراہ سے رابطے کا وقت آ گیا ہے، امریکا کا قریب ترین حلیف اسرائیل ؟ ڈینی ڈینن نے جو بائیڈن کے لیے ایک ٹیلی فون نمبر بھی تحریر کیا جس پر وہ اسرائیلی وزیر اعظم سے رابطہ کر سکتے ہیں۔

ادھر اقوام متحدہ میں امریکا کی سابق خاتون مندوب نکی ہیلی نے بائیڈن انتظامیہ پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ "اسرائیل جیسے دوست کو نظر انداز کر رہی ہے جب کہ ایران جیسے دشمن کے لیے چاہت کے جذبات کا مظاہرہ کر رہی ہے"۔

دوسری جانب پروگریسو امریکن جیویش گروپ کے سربراہ جرمی بن عامی کا کہنا ہے کہ "یہ بات واضح ہے کہ ہم مکمل طور پر مختلف صورت حال میں ہیں ،،، اگرچہ صدر بائیڈن کے پرانے اور اچھے تعلقات ہیں"۔

مقبول خبریں اہم خبریں