.

سوڈان: پُرتشدد مظاہروں کے بعدکالعدم نیشنل کانگریس کے وابستگان کے خلاف کریک ڈاؤن کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوڈان میں حکومت کی ایک خصوصی کمیٹی نے معزول صدر عمرحسن البشیر کی سابق حکمراں جماعت کے ارکان کے خلاف مقدمات چلانے کے لیے ایک حکم جاری کیا ہے۔اس کمیٹی نے یہ فیصلہ ملک میں حالیہ پُرتشدد مظاہروں کے بعد کیا ہے۔

جمعرات کو جاری کردہ اس حکم میں سوڈان کی تمام ریاستوں کے گورنروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ کالعدم نیشنل کانگریس پارٹی کے تمام متحرک لیڈروں اور کارکنان کے خلاف پبلک پراسیکیوٹر کے ذریعے قانونی کارروائی کی جائے۔کمیٹی کا کہنا ہے کہ ملک میں حالیہ پُرتشدد ہنگاموں اور لوٹ مار کے واقعات میں سابق حکمراں جماعت کے وابستگان ملوّث ہیں۔

واضح رہے کہ سوڈان کے فوجی جرنیلوں نے اپریل 2019ء میں عمرالبشیر کو معزول کردیا تھا اور ان کی حکومت کو چلتا کرنے کے بعد خوداقتدار سنبھال لیا تھا۔

لیفٹیننٹ جنرل عبدالفتاح البرہان کے زیرقیادت فوج نے صدربشیرکا تختہ الٹنے کے بعد نیشنل کانگریس پارٹی کو کالعدم قرار دے دیا تھا اور اس کے بیشتر لیڈروں کو گرفتارکرلیا تھا لیکن اب سابق صدر کے حامی ایک مرتبہ پھر سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔وہ دارالحکومت خرطوم اور دوسرے شہروں میں احتجاجی مظاہرے کررہے ہیں اور انھوں نے مبیّنہ طورپروزیراعظم عبداللہ حمدوک کی حکومت کا تختہ الٹنے اورانھیں قتل کرنے کی بھی کوشش کی ہے۔

اِس وقت ایک عبوری کونسل ملک کا نظم ونسق چلا رہی ہے۔اس میں فوجی جرنیل اور سابق صدر کے خلاف عوامی احتجاجی تحریک چلانے والے سیاسی لیڈر اورکارکنان شامل ہیں۔

لیکن یہ عبوری حکومت اب تک عوامی مطالبات کو پورا نہیں کرسکی ہے جس کے پیش نظرعمرالبشیر کے حامیوں نے اس کے خلاف پُرتشدد مظاہرے شروع کردیے ہیں۔حالیہ دنوں میں سوڈان کے بڑے شہروں میں متشدد مظاہرین نے سرکاری عمارتوں اور گاڑیوں کو نذرآتش کردیا ہے اور لوگوں کی املاک کو نقصان پہنچایا ہے۔بعض شہروں میں مظاہرین نے مارکیٹوں میں لُوٹ مار بھی کی ہے۔

مذکورہ سرکاری کمیٹی کے ترجمان نے اس لُوٹ مار کو وزیراعظم عبداللہ حمدوک کی حکومت کے خلاف’’اقتصادی جنگ‘‘قرار دیا ہے۔ان کی حکومت اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کو روکنے اور ایندھن اور روٹی کی قلت پر قابو پانے کے لیے کوشاں ہے۔

دریں اثناء سوڈان کے پبلک پراسیکیوٹر نے حالیہ بدامنی میں ملوّث ہونے کے الزام میں آٹھ افراد کی گرفتاری کا حکم جاری کیا ہے۔ان میں سابق صدر کے بعض قریبی اتحادی بھی شامل ہیں۔ان کے بارے میں شُبہ ہے کہ اس وقت وہ روپوش ہوچکے ہیں۔

وزیراعظم عبداللہ حمدوک نے بدھ کو نئی کابینہ سے حلف لیا تھا اور حالیہ مظاہروں کے بعد صورت حال کی نگرانی کے لیے وزراء پر مشتمل ایک ورکنگ گروپ تشکیل دیا تھا۔