ہمارے کسی اقدام سے قبل ایران جوہری معاہدے کی خلاف ورزیاں‌ بند کرے: امریکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

امریکا نے ایک بار پھرایران پر زور دیا ہے کہ وہ جوہری معاہدے کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ بند کرے اور معاہدے کی تمام شرائط کی پاسداری کرے۔

بدھ کے روز وائٹ ہاؤس نے ایک بیان میں کہا کہ ایران کو جوہری معاہدے کی خلاف ورزیوں کو روکنا چاہیئے امریکا کے کسی بھی اقدام سے پہلے اس کی پاسداری کرنی چاہیئے۔

اس سے قبل امریکی کانگریس میں ریپبلیکن رکن 'جم جورڈان نے 'العربیہ' سے بات کرتے ہوئے موجودہ امریکی انتظامیہ کے ایران کے ساتھ طے پائے جوہری معاہدے میں واپسی کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ ایران کے جوہری معاہدے میں واپسی غلطی ہوگی۔ واشنگٹن کا جوہری معاہدے سے الگ رہنا ہی مناسب ہے۔

انہوں‌ نے مزید کہا کہ ہم اس معاملے پر ڈیموکریٹس کے ساتھ خارجہ تعلقات کمیٹی اور دیگر کمیٹیوں سے بات کریں گے۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس معاملے سے آگاہ تین ذرائع نے کہا تھا کہ امریکا ایران کے جوہری معاہدے کو بحال کرنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کر رہا ہے۔ اس میں ایک آپشن بھی شامل ہے جس میں دونوں فریق وقت کے حصول کے بغیر چھوٹے چھوٹے اقدام اٹھاتے ہیں۔

اس طرح کے اعتدال پسند انداز تعلقات کی مزید خرابی کے عمل کو سست کرسکتا ہے۔ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2018 میں معاہدے سے دستبرداری کا اعلان کیا تھا۔ اس کے بعد ایران نے جوہری معاہدے کی خلاف ورزیاں تیز کر دیں اور یورینیم افزودگی جوہری ہتھیاروں کے حصول کی سطح کے قریب کر دی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں