.

ابہا ہوائی اڈے کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے: جرمنی، برطانیہ اور فرانس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جرمنی، فرانس اور برطانیہ نے سعودی عرب کے جنوب میں ابہا کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر بدھ کے روز ہونے والے دھماکا خیز مواد سے بھرے ڈرون حملے کی مذمت کی ہے۔ یمن میں حوثی ملیشیا نے حملے کی ذمے داری قبول کی تھی۔

جمعرات کے روز جاری مشترکہ بیان میں باور کرایا گیا ہے کہ یہ کارروائی "بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی" ہے ، یہ قانون شہری علاقوں کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔

مذکورہ تینوں ممالک کی خارجہ امور کی وزارتوں نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ "ابہا ہوائی اڈے کو نشانہ بنانا انتہائی مذموم حرکت ہے۔ اس نوعیت کے حملوں میں خاص طور پر شہری علاقوں کو نشانہ بنا کر بین الاقوامی قانون کی پامالی کی جا رہی ہے۔ یہ حملے اس سنگین خطرے کو واضح کرتے ہیں جو ڈرون طیاروں کے پھیلاؤ کے سبب خطے کے استحکام کے خلاف جنم لے رہا ہے"۔

برلن، لندن اور پریس نے باور کرایا ہے کہ سعودی عرب اور اس کی سرزمین کے امن و سلامتی کے لیے ان کی بھرپور اور مضبوط حمایت کا سلسلہ جاری رہے گا۔

یمن میں آئینی حکومت کے حامی عرب اتحاد نے بدھ کے روز اعلان کیا تھا کہ حوثی ملیشیا نے ایک دہشت گرد حملے میں ابہا کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا۔ مزید یہ کہ ایران نواز ملیشیا کے اس حملے کے نتیجے میں ایک شہری طیارے میں بھڑک جانے والی آگ پر قابو پا لیا گیا۔ عرب اتحاد کے طمابق حوثی ملیشیا کا احتساب بین الاقوامی قانون کے مطابق عمل میں آئے گا۔ ابہا کے ہوائی اڈے کو نشانہ بنانے اور شہریوں کو دھمکانے کی کوشش جنگی جرم ہے۔

دریں اثنا برطانوی وزیر خارجہ ڈومینک راب نے اس بات پر زور دیا کہ سعودی عرب کے خلاف حوثیوں کو شدت پسندانہ حملے فورا بند کرنا ہوں گے-

برطانوی وزیر خارجہ ڈومینک راب نے کہا کہ سعودی سرحدوں کے امن وامان کے تحفظ میں تعاون برطانیہ کا غیر متزلزل موقف ہے- انہوں نے سعودی عرب میں مسافر طیارے پر حوثیوں کے حملے کی مذمت بھی کی-

برطانوی وزیر خارجہ نے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ ’ہم ابہا ایئرپورٹ پر مسافر طیارے پر حوثیوں کے حملے کی مذمت کرتے ہیں- حوثیوں کو یہ گھناؤنے حملے بند کرنا ہوں گے- سعودی عرب کی سرحدوں کے امن و امان کے تحفظ سے متعلق برطانیہ کا موقف غیر متزلزل ہے-‘‘