.

امریکا نے حوثیوں کو دہشت گرد لسٹ سے نکال کر ان کی قیادت پر پابندی برقرار رکھی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکہ نے کہا ہے کہ حوثیوں کے تین قائدین خصوصا عبدالملک الحوثی، عبدالخالق بدر الدین اور عبداللہ الحکیم پر پابندیاں برقرار رہیں گی۔ امریکی وزیر خارجہ اینٹنی بلنکن نے جمعے کو کہا ہے کہ حوثیوں کا نام دہشتگرد تنظیموں کی امریکی فہرست سے باقاعدہ طور پر منگل کو نکال دیا جائے گا۔ یہ فیصلہ انسانیت نواز کوششوں کی مدد کی امید پر کیا گیا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ نے بیان میں کہا کہ حوثیوں کو دہشت گرد قرار دینے والے فیصلے کی منسوخی کا مقصد اس امر کو یقینی بنانا ہے کہ دنیا بھر میں بدترین انسانی بحران کے شکار لوگوں تک امدادی سامان کی ترسیل کی امریکی پالیسی میں کوئی رکاوٹ نہ پیدا ہو۔ اس امر کو یقینی بنانے کے لیے فیصلہ منسوخ کیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ حوثیوں کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھے گا اور پابندیوں کے اضافی اہداف پر غور وخوض کرے گا- خصوصا سعودی عرب پر میزائل حملوں کے ذمہ داران پر پابندیاں عائد کرنے پر غور کرے گا-

یاد رہے کہ امریکی وزیر خارجہ نے یہ اقدام سعودی عرب میں ابہا ہوائی اڈے پر حوثیوں کے ڈرون حملے کی مذمت کے باوجود کیا ہے-

اینٹنی بلنکن نے کہا کہ امریکہ انصار اللہ (حوثیوں کی تحریک کا رسمی نام) کی مکارانہ سرگرمیوں اور جارحانہ کارروائیوں کو بہت اچھی طرح سے دیکھ رہا ہے۔ امریکہ حوثیوں کے قائدین پر انفرادی حیثیت میں پابندیاں برقرار رکھے گا۔

واضح رہے کہ اینٹنی بلنکن کے پیش رو سابق امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے اپنا عہدہ چھوڑنے سے قبل حوثیوں کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا تھا۔ انہوں نے اس وقت یہ فیصلہ سناتے ہوئےعدن ایئرپورٹ پر حوثیوں کے حملے اور ایران سے حوثیوں کے تعلقات کا تذکرہ کیا تھا۔ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے حوالے سے سخت گیر پالیسی پر عمل پیرا تھے۔