.

ایمن الظواہری نے ایران سے 10 کروڑ ڈالر کا مطالبہ کیوں کیا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اگرچہ ایران اور القاعدہ تنظیم کی قیادت بارہا اپنے درمیان رابطہ کاری اور تعاون کے وجود کی تردید کر چکی ہے تاہم القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری کے ساتھی اور مصری سیکورٹی ذرائع کہتے ہیں کہ فریقین کے بیچ رابطہ کاری کا سلسلہ تھا اور یہ اب بھی جاری ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ رابطہ کاری ایک تیسرے فریق کے ذریعے عمل میں آئی۔ یہ فریق الاخوان المسلمین تنظیم کی قیادت ہے۔

مصری سیکورٹی ذرائع نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ القاعدہ اور ایران کے درمیان عملی رابطہ کاری کا آغاز 1980ء کی دہائی کے وسط میں الاخوان کی وساطت سے ہوا۔ الاخوان کے سرکردہ رہ نماؤں نے 1986ء میں افغانستان میں اسامہ بن لادن سے ملاقات کی۔

اس ملاقات کا مقصد رابطہ کاری اور مفادات کا تبادلہ تھا۔ علاوہ ازیں ایک اور ملاقات کا انعقاد کیا گیا جس میں اسامہ بن لادن، الاخوان تنظیم کے اُس وقت کے رہبر محمد حامد ابو النصر اور ان کے نائب مصطفی مشہور موجود تھے۔ الاخوان کی دونوں شخصیات نے افغان مجاہدین کے عسکری کیمپوں کا دورہ کیا اور بن لادن اور ان کے ساتھیوں کے لیے اپنی حمیات کا اعلان کیا۔ اس موقع پر دونوں شخصیات کو آگاہ کیا گیا کہ اسامہ بن لادن القاعدہ کے نام سے ایک تنظیم تشکیل دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ یہ تربیت یافتہ مسلح عناصر پر مشتمل فورس ہو گی۔ یہ بحرانات اور تنازعات کے علاقوں میں مسلمانوں کی مدد کے لیے فوری طور پر مداخلت کرے گی۔

مصری سیکورٹی ذرائع کے مطاب ایرانی عناصر اور ایمن الظواہری کے درمیان بھی ملاقاتیں ہوئیں۔ الظواہری تنظیم کو مصر اور دیگر ممالک میں کارروائیوں کرنے کے لیے استعمال کرنا چاہتے تھے۔ یہ موقف بن لادن کی سوچ کے مخالف تھا۔ بن لادن کے نزدیک فورس کا مقصد قریبی نہیں بلکہ دور کے دشمن کا مقابلہ کرنا تھا۔ ان میں صومالیہ، بوسنیا اور چیچنیا جیسے علاقوں میں مسلمانوں کی امداد بنیادی حیثیت کی حامل تھی۔

دوسری جانب الظواہری نے اس نئی تنظیم کو مصر، سوڈان اور یمن میں پر تشدد کارروائیوں کی ہدایات دیں، جیسا کہ 1990ء کی دہائی میں ہوا۔ مصر میں جماعۃ الجہاد کی قیادت نے لڑائی کی تربیت حاصل کرنے کے لیے افغانستان کا رخ کیا اور پھر تربیت یافتہ عناصر حملوں کی کارروائیوں کے واسطے واپس مصر بھیجا۔ اسی زمانے میں مصر میں وزیر اعظم عاطف صدقی اور وزیر داخلہ حسن الالفی پر قاتلانہ حملے ہوئے۔ علاوہ ازیں خان الخلیل کے علاقے میں سیاحوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

القاعدہ کے سابق سربراہ اسامہ بن لادن کے مشیر ایمن فائد نے انکشاف کیا کہ القاعدہ اور ایران کے درمیان تعاون ایمن الظواہری اور مصر اور افغانستان میں الاخوان کی قیادت کے ذریعے انجام پاتا تھا۔ ایران نے افغانستان میں ایک مقامی شخص آصف محسنی کے ذریعے رسائی حاصل کی۔ محسنی کو ایران کی جانب سے فنڈنگ ہوتی تھی اور اس نے ایک جماعت تشکیل دی۔ یہ افغانستان میں ایک سیاسی اور عسکری وجود ہے۔ لہذا الظواہری اور اس کے مقرب افراد کے ذریعے القاعدہ کے راز تہران تک منتقل ہوتے تھے۔

فائد نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ شوقی الاسلامبولی ایران اور الظواہری کے درمیان جوڑ کا نقطہ تھا۔ وہ سابق مصری صدر انور سادات کے قاتل خالد الاسلامبولی کا بھائی تھا۔ افغانستان میں الاخوان کے رہ نماؤں نے 1969ء میں جمعیۃ اسلامیہ کے نام سے تنظیم تشکیل دی۔ یہ تنظیم الاخوان کی ہمنوا افغانی شخصیت عبدالرحيم نيازی کے زیر قیادت بنائی گئی۔ اس میں برہان الدین ربانی اور گلبدین حکمت یار نے بھی شمولیت اختیار کی۔ یہ لوگ مصر میں الاخوان کی ہدایات پر عمل درامد کرتے تھے۔ اس کا مقصد ایران کے ساتھ اور افغانستان میں تہران کی ہمنوا شیعہ جماعتوں کے ساتھ رابطہ کاری کو یقینی بنانا تھا۔

جمال المنشاوی ایک مصری ڈاکٹر ہیں۔ انہوں نے افغانستان اور پاکستان میں مجاہدین کے علاج کے سلسلے میں کام کیا۔ وہ القاعدہ کے رہ نماؤں ایمن الظواہری اور سید امام کے دوست رہے۔ المنشاوی نے انکشاف کیا ہے کہ الظواہری نے مصر میں کارروائیوں کے مقابل ایران سے 10 کروڑ ڈالر کا مطالبہ کیا تھا۔ تاہم تہران نے اس مطالبے کو مسترد کر دیا۔ تہران کو اس بات پر اعتماد نہیں تھا کہ الظواہری اور ان کے ساتھی مصری سیکورٹی اداروں کے نہایت چوکنے رہنے کے باوجود کارروائیاں کر سکیں گے۔ علاوہ ازیں یہ بہت بڑی رقم تھی۔ ایران نے 2003ء میں القاعدہ کے رہ نماؤں کی میزبانی انجام دی تھی۔ ان میں ایمن الظواہری، سیف العدل، ابو حفص الموریتانی، محمد شوقی الاسلامبولی اور ابو محمد المصری شامل تھے۔

المنشاوی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ انہیں ایمن الظواہری کے بعض رفقاء سے معلوم ہوا کہ القاعدہ تنظیم کے متعدد رہ نماؤں نے ایران کا سفر کای تا کہ وہاں دھماکا خیز مواد کی تربیت حاصل کر سکیں۔ ایران نے ان افراد کو محفوظ پناہ گاہ فراہم کی جب کہ افغانستان میں تورا بورا میں ان کے گڑح کو مسلسل امریکی بم باری کا سامنا تھا۔ بعد ازاں ایران نے ان افراد کو امریکی حکام کے ساتھ سودے بازے کے واسطے بطور "پریشر کارڈ" استعمال کیا۔ تہران کا مقصد واشنگٹن اور مغربی دنیا سے سیاسی فوائد کا حصول تھا۔ اس کے مقابل القاعدہ کے عناصر کو حوالے کیے جانے یا انہیں امریکی اور مغربی مفادات کے خلاف حملے روک دینے کا آپشن رکھا گیا۔