.

حوثی ملیشیا کے لیڈروں پر پابندیاں برقرار رہیں گی: امریکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ واشنگٹن کی طرف سے حوثی رہ نماؤں پر عائد پابندیاں برقرار رکھی جائیں گی۔

امریکی محکمہ خارجہ نے مزید کہا کہ واشنگٹن حوثیوں کے زیر تسلط علاقوں میں یمنی عوام کے دکھوں کا مداوا کرنے کی کوششیں جاری رکھے گا تاہم حوثی ملیشیا کی لیڈر شپ پر عاید کردہ پابندیاں برقرار رہیں گی۔ امریکی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ جنگ کے نتیجے میں یمن بدترین انسانی تباہی کا سامنا کر رہا ہے۔

وزارت خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ امریکی انتظامیہ حوثی حملوں سے دفاع کے لیے اپنے اتحادی سعودی عرب کی دفاعی میدان میں مدد جاری رکھے گا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اگرحوثی باغی دہشت گردی کی فہرست سےنکالنے جانے کے بعد بھی عسکری کارروائیاں جاری رکھتے ہیں وہ غلط فہمی کا شکار ہیں۔ ہمارا مقصد اقوام متحدہ کے مندوب ، مارٹن گریفھتس کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے یمن میں امن عمل کی حمایت کرنا ہے۔

ایک دوسرے بیان میں امریکی محکمہ خارجہ نے کہا مقبوضہ بیت المقدس فریقین کےدرمیان مذاکرات کے آخری مراحل میں شامل ہوگا۔ یروشلم کے مستقبل کا فیصلہ فریقین کو خود کرنا ہوگا۔ امریکا اس حوالے سے اسرائیل اور فلسطینیوں پر زور دیتا ہے کہ وہ یک طرفہ اقدامات سے گریز کریں۔

قبل ازیں سعودی عرب دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکا کا کلیدی شراکت دار ہے اور وہ علاقائی استحکام کو یقینی بنارہا ہے۔

یہ بات امریکی محکمہ دفاع پینٹاگان کے ترجمان جان کربی نے جمعرات کو معمول کی نیوزبریفنگ کے دوران میں العربیہ کے ایک سوال کے جواب میں کہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’’سعودی عرب علاقائی سلامتی کے ڈھانچے کا ایک اہم ستون ہے۔ وہ دہشت گردی کے خطرے کے خلاف جنگ اور ایران کی خطے میں تخریبی سرگرمیوں کے مقابلے میں بھی ایک بنیادی فریق ہے۔‘‘

جان کربی نے واضح کیا کہ امریکا سعودی عرب کو اس کی سرحدوں کے دفاع اور نئے پیدا ہونے والے خطرات کے مقابلے میں مدد مہیّا کرنے کے لیے پختہ عزم پر کاربند ہے۔

ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا نے یمن سے سعودی عرب کے شہروں کی جانب ڈرون اور بیلسٹک میزائل داغنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ انھوں نے جمعرات کو سعودی شہر خمیس مشیط کی جانب ایک میزائل داغا تھا،اس کو عرب اتحاد نے فضا ہی میں ناکارہ بنا دیا تھا۔