.

ابوظبی: کووِڈ-19 کے مثبت ٹیسٹ والےشخص کا مٹر گشت، ویڈیوکے بعد دوافراد گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ابوظبی میں کووِڈ-19 کا شکار ایک شخص کی مٹرگشت کرتے ہوئے ویڈیو منظرعام پر آنے کے بعد پولیس نے دو افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔

ان دونوں افرادنے سوشل میڈیا پرایک ویڈیو اپ لوڈ کی تھی۔اس میں ان میں سے کووِڈ-19 کا شکار ایک شخص شخص عوامی مقامات پر چلتا پھرتا نظرآرہا ہے۔یو اے ای کی سرکاری خبررساں ایجنسی وام کے مطابق پولیس نے ویڈیو کی مدد سے اس شخص کا سراغ لگانے کے بعد دونوں افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔

ابوظبی کے پبلک پراسیکیوشن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان دونوں افراد کے خلاف دوسروں کی صحت کو خطرے میں ڈالنے اورکووِڈ-19 کو پھیلنے سے روکنے کے لیے حفاظتی احتیاطی تدابیر کی پاسداری نہ کرنے کے الزام میں تحقیقات کی جارہی ہے۔

اس ویڈیو میں ایک شخص فون پر اپنے کووِڈ-19 کے ٹیسٹ کا مثبت نتیجہ دکھا رہا ہے اور اس کے بعد وہ عوامی جگہ پر دوسرے لوگوں کے درمیان میں چلتا پھرتا نظرآرہا ہے۔

متحدہ عرب امارات میں کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے نافذ کردہ قوانین کے مطابق خلاف ورزی کے مرتکب کسی شخص کو 2720 ڈالر(10ہزار درہم ) سے 13600 ڈالر(50 ہزار درہم) تک جرمانہ عاید کیا جاسکتا ہےاور اس کوجیل کی سزا بھی ہوسکتی ہے۔

قبل ازیں حالیہ دنوں میں متعدد افراد کو کروناوائرس کی پابندیوں کی پاسداری نہ کرنے کے الزام میں بھاری جرمانے عاید کیے جا چکے ہیں۔ دبئی کے میڈیا دفتر کے مطابق جمعہ کو ایک ٹور آپریٹر کو بیرون میں تقریب منعقد کرنے کی پاداش میں 13600 ڈالر(50 ہزار درہم) جرمانہ عاید کیا گیا تھا۔

ابوظبی نے گذشتہ اتوارکو کروناوائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے نئی سکت پابندیاں نافذ کی تھیں۔ان کے تحت ابوظبی شہر میں اجتماعات اور تقریبات کے انعقاد کی سختی سے ممانعت کردی گئی ہے،فلم تھیٹر بند کردیے گئے ہیں۔شادیوں اورخاندانی اجتماعات میں صرف 10 افراد شریک ہوسکتے ہیں۔

سرکاری سرکلر کے مطابق ابوظبی میں اب کسی متوفیٰ کی تجہیز وتدفین میں زیادہ سے زیادہ 20 افراد کو شرکت کی اجازت ہے۔

شاپنگ مالوں میں ان کی کل گنجائش کے مقابلے میں صرف 40 فی صد افراد کو جانے کی اجازت ہے۔ریستورانوں ، کیفے ، ہوٹلوں اور سرکاری بیچز اور پارکوں میں 60 فی صد تک افراد کو آنے کی اجازت ہے۔

نجی ملکیتی بیچز اور پیراکی کے تالابوں (سوئمنگ پولز) کو ان کی کل گنجائش کے مقابلے میں صرف 50 فی صد تک کام کرنے کی اجازت ہے۔کروناوائرس سے بچاؤ کے لیے حفاظتی احتیاطی تدابیر کے تحت جِم خانوں میں بھی صرف 50 فی صد افراد آسکتے ہیں۔