.

ترکی میں اپوزیشن صحافی کے قتل میں ملوث ایرانی سفارت کار کی گرفتاری کی وڈیو جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی میں حکام نے ایرانی سفارت کار محمد رضا ناصر زادہ کو حراست میں لیے جانے کے مناظر پر مشتمل وڈیو جاری کی ہے۔ ناصر زادہ پر الزام ہے کہ اس نے اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے صحافی مسعود مولوی وردنجانی کے قتل کے سلسلے میں کارروائی کے ماسٹر مائنڈ کی مدد کی۔ وردنجانی کو نومبر 2019ء میں انقرہ کی ایک سڑک پر گولیاں مار کر قتل کر دیا گیا تھا۔

اس سے قبل ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان سعید خطیب زادہ نے تُرک اخبار "صباح" میں جمعرات کے روز شائع خبر کی تردید کی تھی۔ خبر میں کہا گیا تھا کہ استنبول میں ایرانی قونصل خانے کے ایک سفارت کار کو نومبر 2019ء میں ایرانی صحافی وردنجانی کی ہلاکت سے تعلق ہونے پر گرفتار کر لیا گیا ہے۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی اِرنا کے مطابق خطیب زادہ نے کل جمعے کے روز اپنے بیان میں کہا کہ "مذکورہ اخبار میں شائع خبر بے بنیاد اور جھوٹے الزامات پر مبنی ہے۔ مزید یہ کہ خبر میں جس شخص کا ذکر کیا گیا ہے وہ ایرانی قونصل خانے کا ملازم نہیں ہے۔ ہم سرکاری ذرائع سے ترک حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں تا کہ اس معاملے پر نظر رکھی جا سکے"۔

ترک اخبار "صباح" کے مطابق 43 سالہ ایرانی سفارت کار ناصر زادہ پر الزام ہے کہ اس نے صحافی وردنجانی کے قتل کے ماسٹر مائنڈ علی اسفنجانی کو جعلی شناختی کاغذات فراہم کیے تھے۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ اسفنجانی غیر قانونی طور پر ایران منتقل ہو سکے۔

مسعودی مولودی وردنجانی "بیک بکس" نامی ویب سائٹ کا متنازع ایڈیٹر تھا۔ ٹیلی گرام پر بھی اسی نام سے وردنجانی کی ایپلی کیشن مشہور تھی۔ مذکورہ صحافی ایرانی پاسداران انقلاب کے پاس کام کر چکا ہے۔ بعد ازاں وہ ایران سے فرار ہو گیا۔

وردنجانی نے عسکری اشرافیہ اور ایرانی رہبر اعلی علی خامنہ ای کے خاندان کے اندر بدعنوانی کے حوالے سے دستاویزات جاری کی تھیں۔ ترکی پہنچنے کے ایک برس بعد نومبر 2019ء میں وردنجانی کو استنبول کی ایک سڑک پر فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا تھا۔

روئٹرز نیوز ایجنسی نے دو سینئر ترک ذمے داران کے حوالے سے بتایا کہ ترکی میں ایرانی قونصل خانے میں تعینات ایرانی انٹیلی جنس افسر اس کارروائی کا ماسٹر مائنڈ ہے۔

ادھر واشنگٹن بھی یہ اعلان کر چکا ہے کہ ایرانی وزارت انٹیلی جنس صحافی وردنجانی کے قتل میں براہ راست ملوث ہے۔