.

جو بائیڈن گوانتا نامو حراستی مرکز بند کرنے کے لیے پُرعزم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

وائٹ ہاؤس کی ترجمان جین ساکی نے کہا ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن گوانتانامو جیل بند کرنا چاہتے ہیں۔ وہ اپنی مدت صدارت کے اختتام پر اس جیل کو بند کرنا چاہتے ہیں۔

جیل کو بند کرنے سے متعلق ٹائم ٹیبل کے بارے میں ایک صحافی کے سوال کے جواب میں جین ساکی نے کہا ہم یقینا ایسا کرنا چاہتے ہیں ہم اسے حاصل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

جمعہ کے روز وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے کہا تھا کہ بائیڈن انتظامیہ نے متنازع جیل کو بند کرنے اور گوانتانامو بے میں امریکی فوجی جیل کے مستقبل کے بارے میں باضابطہ طور پر جائزہ لینے کا آغاز کیا ہے۔ آنے والے ہفتوں یا مہینوں میں اس جیل کو بند کرنے کے لیے ایگزیکٹو طریقہ کار پرعمل درآمد کیا جائےگا۔

قومی سلامتی کونسل کی ترجمان ایملی ہورن نے کہا کہ ہم موجودہ صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے قومی سلامتی کونسل کے عمل کو لاگو کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ گوانتا نامو جیل کو بند کرنے کا فیصلہ ہمیں سابقہ انتظامیہ ورثے میں ملا ہے۔

یہ جیل 11 ستمبر 2001ء کو نیویارک اور واشنگٹن پر حملوں کے بعد قائم کی گئی تھی۔ امریکا نے نائن الیون حملوں میں ملوث دہشت گردوں‌کو گرفتار کرنے کے بعد گوانتا نامو جیلوں میں لے جایا گیا۔ گوانتا نامو جیل کے قیام اور اس میں قیدیوں‌ کے ساتھ مبینہ بدسلوکی پر انسانی حقوق کے اداروں کی طرف سے امریکی حکومتوں کو تنقید کا بھی سامنا کرنا پڑا ہے۔ سابق امریکی صدر باراک اوباما نے اس جیل کو بند کرنے کا اعلان کیا تھا مگر انتظامی مشکلات کی وجہ سے وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوئے جب کہ ٹرمپ نے اس بدنام زمانہ قید خانے کو بند کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں دکھائی۔