.

مقدیشو: صدارتی محل کے نزدیک خود کش دھماکا، متعدد افراد ہلاک و زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

صومالیہ میں پولیس نے بتایا ہے کہ ہفتے کے روز دارالحکومت مقدیشو میں ایک خود کش حملہ آور نے صدارتی محل اور پارلیمنٹ کی عمارت کے نزدیک کار بم دھماکا کر دیا۔ اس کے نتیجے میں کم از کم دو افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔

عینی شاہدین کے مطابق سیکورٹی اہل کاروں نے گاڑی چلانے والے خود کش حملہ آور پر فائرنگ کی تاکہ وہ زخمی ہو کر گر پڑے۔ اس کے تین منٹ بعد گولہ بارود سے بھری گاڑی دھماکے سے پھٹ گئی۔

ابھی تک کسی جماعت نے کارروائی کی ذمے داری قبول نہیں کی ہے۔ پولیس کو شبہ ہے کہ دھماکے میں دہشت گرد تنظیم حرکت الشباب ملوث ہے۔

القاعدہ تنظیم کے ساتھ مربوط حرکت الشباب باقاعدگی سے حملے کرتی ہے۔ ان کارروائیوں میں سرکاری ذمے داران، صحافیوں، اہم کاروباری شخصیات اور شہریوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔

اس سے قبل کل جمعے کے روز بھی دارالحکومت مقدیشو کے باکارا بازار میں ایک زور دار دھماکا ہوا تھا۔ صومالی میڈیا کے مطابق یہ ایک کار بم دھماکا تھا جو پولیس کے مرکز میں ہوا۔ دیگر ذرائع کے مطابق دھماکا باکارا بازار کے نزدیک بم پھٹنے سے ہوا۔

دھماکے میں ہلاکتوں کے بارے میں کوئی معلومات مہیا نہیں ہوئیں۔ کسی بھی جماعت نے اس دھماکے کی ذمے داری قبول نہیں کی۔

گذشتہ اتوار کو صومالیہ کے شہر طوسمریب کے بیرونی راستے پر بم دھماکا ہوا تھا۔ پولیس کے مطابق دھماکے کے نتیجے میں انٹیلی جنس اینڈ نیشنل سیکورٹی ایجنسی کے 12 اہل کار ہلاک ہو گئے تھے۔

روئٹرز ایجنسی کے مطابق حرکت الشباب نے اس کارروائی کی ذمے داری قبول کی تھی۔