متحدہ عرب امارات کے اسرائیل میں متعیّن کردہ پہلے سفیرکی حلف برداری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

حاکمِ دبئی اور متحدہ عرب امارات کے نائب صدر شیخ محمد بن راشد آل مکتوم نے اسرائیل میں مقرر کیے گئے ملک کے پہلے سفیر محمد محمود الخاجہ سے اتوار کوان کے عہدے کا حلف لیا ہے۔

یواے ای کی کابینہ نے گذشتہ ماہ تل ابیب میں اپنا سفارت خانہ قائم کرنے کی منظوری دی تھی جبکہ اسرائیل نے ابوظبی میں اپنا سفارت خانہ کھولنے کا اعلان کیا تھا۔

اسرائیل نے اپنا دارالحکومت مقبوضہ بیت المقدس میں قائم کررکھا ہے اور وہ اس متنازع شہر کو اپنا دائمی دارالحکومت قرار دیتا ہے جبکہ اقوام متحدہ سمیت عالمی برادری اس کے اس دعوے کو تسلیم نہیں کرتی ہے۔

سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان کیا تھا اور امریکی سفارت خانہ تل ابیب سے اس شہر میں منتقل کردیا تھا۔ چند ایک اور ممالک نے بھی اپنے سفارت خانے مقبوضہ بیت المقدس میں منتقل کیے ہیں جبکہ بیشتر ممالک تل ابیب ہی کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرتے ہیں اور انھوں نے وہیں اپنے سفارت خانے برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

واضح رہے کہ یو اے ای نے 13 اگست 2020ء کو اسرائیل کے ساتھ معمول کے سفارتی تعلقات استوار کرنے کے تاریخی امن معاہدے کا اعلان کیا تھا اور پھر اس کی روشنی میں 29 اگست کو ایک فرمان جاری کیا تھا ،اس کے تحت اسرائیل کے معاشی بائیکاٹ سے متعلق یو اے ای کے قانون کو منسوخ کردیا گیا تھا۔

متحدہ عرب امارات اور اسرائیل نے 15 ستمبر کو وائٹ ہاؤس میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی میں طے شدہ معاہدۂ ابراہیم پر دست خط کیے تھے۔یو اے ای نے مصر اور اردن کے اسرائیل کے ساتھ امن معاہدوں کے کوئی ربع صدی کے بعد معمول کے تعلقات استوار کیے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں