.

بحرین کی معیشت کی شرح نمو 3۰3 فی صد رہے گی،حکومت قومی قرضہ کم کرے:آئی ایم ایف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بحرین کی معیشت میں کووِڈ-19 کی وَبا کے بعد بتدریج بہتری آرہی ہے اور اس سال اس کی اقتصادی بحالی کا امکان ہے۔رواں سال اس کی معاشی شرح نمو 3۰3 رہے گی۔اس ننھی خلیجی ریاست کی معیشت کے بارے میں یہ پیشین گوئی عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے کی ہے۔

بحرین کو گذشتہ سال کے دوران میں کرونا وائرس کی وبا اور عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی کی وجہ سے بجٹ خسارے کا سامنا کرنا پڑا ہے۔آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ 2020ء میں بحرین کا بجٹ خسارہ مجموعی قومی پیداوار کا 18۰2 فی صد رہاتھا۔2019ء میں یہ خسارہ 9 فی صد تھا۔

بحرین پر 2014-2015ء میں تیل کی قیمتوں کے بحران کے بعد سے کافی قرض چڑھ چکا ہے۔ اس کے پیش نظراس کے خلیجی اتحادیوں نے 10 ارب ڈالر کا امدادی پیکج مہیا کیا تھا تاکہ اس کو 2018ء میں مالی بحران کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

آئی ایم ایف کے مطابق بحرین کا سرکاری قرضہ جی ڈی پی کے 133 فی صد کے برابر ہوچکا ہے۔2019میں سرکاری قرضہ جی ڈی پی کا 102 فی صد تھا۔

فنڈ نے بیان میں کہا ہے کہ ’’بحرین کے ایک طویل عرصے سے جاری مالی عدم توازن کے خاتمے کے لیے درمیانی مدت کے فریم ورک اور مالیاتی ایڈجسٹمنٹ کی ضرورت ہے۔اس کے علاوہ حکومت کو میکرواکنامک استحکام کی بحالی کی بھی ضرورت ہے۔

عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ بحرین کووِڈ-19 کی وبا کے شعبہ صحت اور معیشت پر مرتب ہونے والے اثرات سے نمٹنے کے لیے تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے اور کرونا وائرس کی ویکسین کی عام دستیابی کو یقینی بنارہا ہے۔

بحرین کی اس سال 3۰3 فی صد شرح نمواس بات کی مظہر ہے کہ غیرتیل معیشت کی شرح نمو 3۰9 فی صد ہونے کی توقع ہے۔آئی ایم ایف نے بحرین کے مرکزی بنک کی جانب سے دوسرے بنکوں کی معاونت کا خیرمقدم کیا ہے۔

اس کا کہنا ہے کہ حکومت کے آجرکی حیثیت سے کردار میں کمی سے نجی شعبہ کو زیادہ فعال اور پُرکشش انداز میں نجی شعبے کو بنانے میں مدد ملے گی اور اس سےمالیاتی دباؤ کے خاتمے میں بھی مدد ملے گی۔