اربیل میں راکٹ حملہ؛سعودی عرب،امریکا،اقوام متحدہ اوربرطانیہ کی شدید الفاظ میں مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

اقوام متحدہ، سعودی عرب اور برطانیہ نے عراق کے خودمختار شمالی علاقے کردستان کے دارالحکومت اربیل میں تباہ کن راکٹ حملے کی مذمت کی ہے۔سوموار کی شب اربیل اور اس کے نواحی علاقوں میں متعدد راکٹ گرنے سے ایک سویلین کنٹریکٹر ہلاک اور چھے افراد زخمی ہوگئے تھے۔ان میں ایک امریکی فوجی بھی شامل ہے۔

عراق میں اقوام متحدہ کی خصوصی ایلچی جینین ہینس نے ایک بیان میں اربیل میں اس حملے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہارکیا ہے اور کہا ہے کہ ’’اس طرح کی سنگین کارروائیاں عراق کے استحکام کے لیے خطرے کا سبب ہیں۔ اس ملک کو بیرونی مخاصمتوں سے تحفظ مہیّا کیا جانا چاہیے۔‘‘

انھوں نے ٹویٹر پر ایک بیان میں اس طرح کی تشددآمیز کارروائیوں کی روک تھام کے لیے بغداد اوراربیل کے درمیان قریبی تعاون کی ضرورت پر زوردیا ہے۔

سعودی عرب نے اربیل کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر دہشت گردی کے اس حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔سعودی وزارتِ خارجہ نے اس بزدلانہ حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ اس طرح کے حملوں سے عراق اور خطے کی سلامتی اور استحکام کے لیے خطرات پیدا ہوگئے ہیں۔

سعودی وزارتِ خارجہ نے عراق اور اس کے عوام کے ساتھ یک جہتی کا اظہارکیا ہے اوراس کی سلامتی اورتحفظ کے لیے اقدامات کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔

متحدہ عرب امارات نے بھی دہشت گردی کے اس حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔یو اے ای کی وزارتِ خارجہ اور بین الاقوامی تعاون نے ایک بیان میں کہا ہے کہ یو اے ای اس طرح کی مجرمانہ کارروائیوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے اور وہ تشدد اور دہشت گردی کی تمام شکلوں کی مذمت کرتا ہے۔

امریکی وزیرخارجہ انٹونی بلینکن اور بغداد میں متعیّن برطانوی سفیرنے بھی ایک بیان میں اربیل کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر راکٹ حملے کی مذمت کی ہےاور اس کے ذمے داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کیا ہے۔

برطانوی خبررساں ایجنسی رائیٹرز کی رپورٹ کے مطابق اربیل کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر تین راکٹ گرے تھے۔اس کے بعد متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئی تھیں اور ہوائی اڈے کے نزدیک آگ لگ گئی تھی۔

سرایا اولیاء الدم نامی ایک غیر معروف گروپ نے اس حملے کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔اس کا کہنا ہے کہ وہ عراق میں ’’امریکی قبضے‘‘ کو نشانہ بنا رہا ہے۔عراقی حکام کا کہنا ہے کہ اس گروپ کا ایران سے تعلق ہے۔

واضح رہے کہ اب تک ایران کے حمایت یافتہ متعدد گروپوں نے اتحادی فورسز،ان کے ساتھ کنٹریکٹر کے طور پر کام کرنے والوں اور امریکی تنصیبات پر راکٹ اور سڑک کے کنارے بموں سے حملے کیے ہیں۔ حالیہ مہینوں میں بغداد میں امریکی سفارت خانے پر متعدد راکٹ حملے کیے گئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں