امریکی صدرجوبائیڈن عراق میں راکٹ حملے کے ردِّعمل میں کیا کرسکتے ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

امریکا کا محکمہ دفاع صدر جوزف بائیڈن کو عراق کے شمالی شہراربیل میں ایک فوجی اڈے پر راکٹ حملے کے جواب میں کارروائی کے لیے مختلف آپشنز پیش کرے گا۔

اربیل کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پرامریکی فوج کے بیس پرسوموار کی شب راکٹوں سے حملے میں ایک کنٹریکٹر ہلاک اور نوافراد زخمی ہوگئے تھے۔امریکا کی قیادت میں اتحاد کے بیان کے مطابق فوجی اڈے پر 14 راکٹ داغے گئے تھے۔ان میں تین اسی بیس پر گرے تھے۔

پینٹاگان کے ایک عہدے دار نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’اس راکٹ حملے میں مارا گیا سویلین کنٹریکٹر امریکی شہری نہیں تھا۔اس لیے امریکا کا ماضی کا یہ فارمولا لاگو نہیں ہوتا کہ کسی امریکی کی ہلاکت کا ضرور جواب دیاجائے گا۔‘‘

ان کا کہنا ہے کہ امریکا عراقی عہدے داروں سے قریبی رابطے میں ہے۔عراقی حکام اس واقعہ کی تحقیقات کررہے ہیں۔پینٹاگان عراقی حکومت کو تحقیقات کے لیے وقت دینا چاہتا ہے تاکہ یہ پتا چل سکے کہ کیا ہوا تھا اور اس حملے کا ذمے دار کون ہے؟‘‘

انھوں نے بتایا کہ عراقی حکومت کی تحقیقات کے نتائج کی روشنی میں پینٹاگان اس حملے کے ردعمل کے ضمن میں صدربائیڈن کو مختلف آپشنز پیش کرے گا۔

اس عہدہ دار کا کہنا تھا کہ ’’امریکا کا ردِّعمل تحقیقات کے نتائج پر مبنی ہوگا کیونکہ وہ عراق میں اپنے شہریوں اور فوجیوں کو تحفظ مہیا کرنا چاہتا ہے۔‘‘

دریں اثناء امریکا کے وزیردفاع لائیڈ آسٹن نے اپنے عراقی ہم منصب جمعہ سعدون سے ٹیلی فون پر گفتگو میں اربیل میں راکٹ حملے کے بارے میں تبادلہ خیال کیا ہے اور اس حملے کی مذمت کی ہے۔

آسٹن کے دفتر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’عراقی عوام ایک محفوظ اور مستحکم عراق کے حق دار ہیں۔امریکا عراقیوں کی اپنے ملک کی خودمختاری اور سالمیت کے دفاع کے لیے کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔دونوں وزراء نے امریکا اور عراق کے درمیان تزویراتی شراکت داری جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔‘‘

سرایا اولیاء الدم نامی ایک غیر معروف گروپ نے اس اربیل میں اس حملے کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔اس کا کہنا ہے کہ وہ عراق میں ’’امریکی قبضے‘‘ کو نشانہ بنا رہا ہے۔عراقی حکام کے بہ قول اس گروپ کا ایران سے تعلق ہے۔

واضح رہے کہ اب تک ایران کے حمایت یافتہ متعدد مسلح گروپوں اور ملیشیاؤں نے اتحادی فورسز،ان کے ساتھ کنٹریکٹر کے طور پر کام کرنے والوں اور امریکی تنصیبات پر راکٹ اور سڑک کے کنارے بموں سے حملے کیے ہیں۔ حالیہ مہینوں میں بغداد میں امریکی سفارت خانے پر متعدد راکٹ حملے کیے گئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں