.

سعودی عرب:علاقائی دفتر رکھنے والی کمپنیاں ہی حکومت سے کاروبار کی مجاز ہوں گی

2024ء میں سعودی عرب میں کاروبار سے متعلق تفصیلی قواعدوضوابط رواں سال جاری کیے جارہے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ یکم جنوری 2024 کے بعد ان غیرملکی کمپنیوں یا تجارتی اداروں کے ساتھ معاہدے معطل متصور ہوں گے جن کا علاقائی دفتر سعودی عرب کے سوا کسی اور ملک میں ہوگا۔

ایک سرکاری عہدہ دار کے مطابق اس فیصلے کا اطلاق تمام سرکاری فنڈز، اداروں اور محکموں کے ساتھ کاروبار کرنے والی کمپنیوں پر بلا استثنا ہو گا۔

اس فیصلے کا مقصد سعودی عرب کے سرکاری فنڈز، محکموں اور اداروں کے ساتھ کاروبار کرنے والی غیرملکی کمپنیوں اور اداروں کو سعودی شہریوں کو ملازمتیں دینے پر آمادہ کرنا ہے۔

اس اقدام کا ایک اور مقصد سعودی عرب کے ساتھ کاروبار سے حاصل شدہ منافع کو مقامی سطح پر خرچ کرنے کے لیے ماحول سازگار بنانا ہے تاکہ مختلف سرکاری اداروں سے حاصل کردہ اہم خدمات سے مصنوعات مقامی سطح پر سعودی عرب ہی میں تیار ہوں۔

سعودی عہدہ دار کا مزید کہنا تھا کہ یہ فیصلہ سعودی دارالحکومت ریاض کے حوالے سے ویژن 2030 کی حکمت عملی کے اہداف سے ہم آہنگ ہے۔فیوچرانویسٹمنٹ فورم میں حکمت عملی کے اہداف بیان کیے گئے تھے اور اس موقع پر 20 بین الاقوامی کمپنیوں نے اپنے علاقائی دفاتر الریاض منتقل کرنے کا عزم ظاہر کیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس فیصلے سے سعودی معیشت کا حصہ بننے والے کسی بھی سرمایہ کار کی استعداد پر منفی اثر نہیں پڑے گا اوراس حوالے سے تفصیلی ضوابط 2021 میں جاری کر دیے جائیں گے۔