.

جوہری ہتھیاروں سے متعلق بیان کے بعد روحانی کا ایرانی انٹیلی جنس کو انتباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی قیادت متنازع جوہری پروگرام کے حوالے سے آئے روز متضاد بیانات دیتی چلی آ رہی ہے۔ کبھی جوہری معاہدے کو بالواسطہ طور پر زندہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ کبھی کشیدگی بڑھانے کی بات کی جاتی ہے اور گاہے ایرانی قیادت کو امن کی بات کرتے یا دوسرے کو قائل کرتے دیکھا یا سنا جاسکتا ہے۔

حالیہ ایام میں ایرانی صدر حسن روحانی کے متنازع بیانات بھی سامنے آ رہے ہیں۔

اسی سیاق میں صدر حسن روحانی کےپرنسپل سیکرٹری محمود واعظی نے کہا ہے کہ صدر روحانی نے انٹیلی جنس وزیر کو جوہری پروگرام سے متعلق ایک متنازع بیان پر متنبہ کیا ہے۔

انٹیلی جنس وزیر محمود علوی نے کہا تھا کہ 'جوہری بم تیار کرنے کو حرام قرار دینے کا فتویٰ بدل سکتا ہے'۔

بدھ کے روز انٹیلی جنس وزیر نے کہا تھا کہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے جوہری بم کی تیاری کو 'حرام' قرار دے رکھا ہے۔ ابھی تک یہ فتویٰ برقرار ہے مگر اسے تبدیل کیا جاسکتا ہے۔

محمود علوی کا کہنا تھا کہ سپریم لیڈر نے ایٹمی ہتھیاروں کو حرام قرار دینے کا فتویٰ دیا ہے مگر میں‌ یہ بتا دوں کہ جب بلی کو دیوار سے لگایا جائے گا تو وہ اپنا دفاع کرنے میں آزاد ہوگی۔ اگر ایران اپنے دفاع کی بات کرتا ہے تو یہ کوئی گناہ تو نہیں۔

امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نیڈ برائس نے محمود علوی کے بیان کو'حد درجہ تشویشناک' قرار دیا ہے۔