.

حوثی حملوں کے جلو میں الریاض کے لیے امریکی حمایت میں اضافہ

ٹموتھی لینڈرکنگ کے خیال میں سعودی عرب کو اپنے گھر اور خلیجی خطے کے آنگن کی حفاظت کا حق حاصل ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی محکمہ دفاع ’’پینٹاگان‘‘ نے سعودی عرب پر یمنی حوثیوں کے مسلسل حملوں کے پیش نظر کی جانے والی کی جانے والی مذمت کی لے تیز کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن، الریاض کی جانب سے اپنے بچاؤ کی صلاحیت کی حمایت کرتا رہے گا۔

پینٹاگان کے پریس سیکرٹری جان کربی نے محکمہ دفاع میں اخبار نویسوں کو بتایا کہ ’حوثی حملے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکا بیرونی خطرات اور دھمکیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔

حوثیوں کو دہشت گرد قرار دینے سے متعلق امریکی فیصلہ کی واپسی کے باوجود ایران کے پروردہ گروہ نے سعودی عرب اور یمن میں اپنے حملوں میں بظاہر اضافہ کر دیا ہے۔

گذشتہ ہفتے سعودی عرب کے شہر ابھا کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر راکٹ حملے کی ذمہ داری حوثی گروہ نے قبول کی تھی۔

جو بائیڈن انتظامیہ کی طرف سے حوثیوں کو دہشت گرد فہرست سے نکالنے کے فیصلے پر تنقید کرنے والوں کا خیال ہے کہ اس سے دہشت گروہ کو شہہ ملے گی۔

بدھ کے روز ہی امریکی صدر بائیڈن کے خصوصی ایلچی برائے یمن ٹموتھی لینڈرکنگ نے اعتراف کیا کہ سعودی عرب کو یمن تنازع ختم کرنے کی ضرورت ہے۔

ٹموتھی لینڈرکنگ’ نے امریکی نشریاتی ادارے پی بی ایس کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ’یمن تنازع میں آپ کو سعودی عرب کی ضرورت ہے۔ انہیں اس ضمن میں کلیدی کردار ادا کرنا ہے۔ آخر کار یمن، نہ صرف سعودی مملکت کا گھر آنگن بنتا ہے بلکہ یہ خلیج کا بھی پچھواڑا ہے۔ جس طرح ہم اپنے گھر آنگن میں ہونے والی پیش رفت پر کڑی نظر رکھتے ہیں، اسی طرح سعودی عرب بھی اپنی مملکت کے بچھواڑے واقع یمنی سرحد پر احتیاط سے نذر ڈالنے کا حق رکھتا ہے۔‘‘

’’امریکا اس کوشش میں سعودی عرب کا ایک مضبوط شریک ہو گا۔ مجھے یقین ہے کہ ہم امریکی صدر کی سعودی عرب سے متعلق کمٹمنٹس برقرار رکھنے کے قابل ہوں گے۔ ہماری کوشش ہو گی کہ یمن کا تنازع اب ختم ہو۔ یہ ہمارا ہدف ہے۔‘‘