سعودی عرب 'انویسٹمنٹ پارٹنر' ہے، تعلقات کو مزید وسعت دیں‌ گے: ازبک سفیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب میں متعین وسطی ایشیائی ریاست ازبکستان کے سفیر 'اولوگ بک مقصودوف نے کہا ہے کہ سعودی عرب ہمارا سرمایہ کار پارٹنر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم اپنے ملک میں سعودی عرب کی سرمایہ کاری کے لیے مزید مواقع پیدا کریں‌ گے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے ازبک سفیر نے کہا کہ ازبکستان اپنے ہاں عالمی اور سعودی عرب جیسے دوست ممالک کی سرمایہ کاری کے دروازے کھول رہے ہیں۔ کرونا کی وبا سے قبل ازبکستان اور سعودی عرب کی مشترکہ سرمایہ کاری میں اضافہ ہوا اور سال 2020ء کے دوران ازبکستان میں سعودی عرب کی سرمایہ کاری کا حجم 20 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ دونوں‌ ملکوں‌ کے درمیان باہمی تعاون اور سرمایہ کاری کے کئی معاہدے ہو چکے ہیں جن میں نمایاں معاہدہ توانائی کے شعبے میں مشترکہ سرمایہ کاری کا ہے۔ سعودی عرب نے اکو پاور کمپنی کے ساتھ 1 ارب 20 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کا معاہدہ کیا۔ اس معاہدے کے تحت زراعت اور صنعت کے شعبے میں سرمایہ کاری کی جائے گی۔

ازبک سفیر مقصودوف نے کہا کہ ہمارے لیے یہ بات باعث فخر ہے کہ سعودی عرب اور ازبکستان نے مشترکہ بزنس کونسل کا قیام عمل میں لایا۔ یہ کونسل دونوں ملکوں کی اقتصادی ترقی کے لیے معاون اور مدد گار ثابت ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب اور ازبکستان تجارت، سیاست، ثقافت اور دیگر شعبوں میں ایک دوسرے کے قریب ہو رہے ہیں۔ آنے والے دنوں میں دونوں ممالک دو طرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اقدامات کریں‌ گے۔

سعودی عرب میں ازبک تارکین وطن کے بارے میں‌ پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں انہوں‌ نے کہا کہ سعودی عرب میں 300 ازبک شہری کام کر رہے ہیں۔ سعودی عرب نے ازبک لیبر میں اضافے کے لیے تعاون کو مزید وسعت دینے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔

ازبک سفیر نے سعودی حکومت کی جانب سے کرونا وبا سے نمٹنے اور تمام شہریوں کو بلا امتیاز کرونا ویکسین کی فراہمی اس بات کا ثبوت ہے کہ مملکت نے وبا پر قابو میں رکھنے کے لیے قابل تحسین اقدامات کیے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں