.

سعودی سفیرہ آمال المعلمی نے اپنی سفارتی اسناد ناروے کے فرمانروا کو پیش کردیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی دوسری خاتون سفیر آمال المعلمی نے ناروے میں بہ طور سفیر تعیناتی کے بعد اپنی سفارتی اسناد تقرر میزبان ملک کے فرمانروا کنگ ہیرالڈ پنجم کو پیش کردیں۔

آمال نے کل جمعرات کے روز اپنی سفارتی اسناد ناروے کے کے فرمانروا کو پیش کیں۔

خیال رہے کہ سعودی عرب کی موجودہ حکومت خواتین کو مختلف شعبوں میں با اختیار بنانے کی پالیسی پرعمل پیرا ہے۔اب تک بیرون ملک سفارتی عہدوں‌ پر مردوں‌ ہی کی اجارہ داری رہی ہے تاہم امریکا میں سعودی عرب کی خاتون سفیر کی تعیناتی کے بعد آمال المعلمی دوسری سعودی خاتون سفارت کار ہیں جنہیں ناروے میں مملکت کی سفیر مقرر کیا گیا ہے۔

آمال المعلمی ایک تجربہ کار سفارت کار ہیں۔ وہ اب تک مملکت میں اہم عہدوں‌ پر کام کرچکی ہیں۔ گذشتہ برس انہیں سعودی عرب میں انسانی حقوق کمیشن میں ڈائریکٹر جنرل برائے آرگنائزیشن وعالمی تعاون مقرر کیا گیا۔ آمال اعلیٰ تعلیم یافتہ اور ایک پیشہ ور خاتون ہیں۔

آمال المعلمی کا خاندان مملکت کی بیرون ملک نمائندگی میں پیش پیش ہے۔ ان کے بھائی عبداللہ یحیٰی المعلمی اقوام متحدہ میں سعودی عرب کے مستقل مندوب ہیں‌۔ ان کے والد یحییٰ بن عبداللہ المعلمی سعودی عرب میں ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل سیکیورٹی کے عہدے پر تعینات رہے۔ وہ ایک علمی اور ادبی شخصیت تھے اور انہیں قاہرہ میں عرب زبان وادب کونسل کی رکنیت بھی دی گئی تھی۔

ناروے میں نئی خاتون سفیر نے امریکا میں "یونیورسٹی آف ڈنور" سے ماس کمیونیکیشن اینڈ میڈیا میں پوسٹ گریجویٹ ڈگری حاصل کی۔ سعودی عرب میں شہزادی نورا بنت عبد الرحمن یونیورسٹی سے انگریزی زبان میں بیچلر آف آرٹس کیا اور برطانیہ میں آکسفورڈ یونیورسٹی کے مرکز برائے اسلامی علوم میں اسلامی تعلیمات میں ڈپلوما حاصل کیا۔

آمال المعلمی گذشتہ 20 سال سے مملکت میں تدریس اور سماجی ترقی کے میدان میں سرگرم ہیں۔ انہوں‌ پانچ سال ایک معلمہ کے طور پر خدمات انجام دیں۔

سنہ 2013ء سے 2015ء کے دوران انہیں شاہ عبدالعزیز نیشنل ڈائیلاگ مرکز کے شعبہ خواتین کے ڈائریکٹر کی ذمہ داری سونپی گئی۔ سنہ 2016ء میں‌ انہیں‌ مملکت میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات کی نگراں کمیٹی کار رکن مقرر کیا گیا۔