.

سعودی عرب آیندہ ایک عشرے میں ملکی دفاعی صنعت پر 20 ارب ڈالر صرف کرے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب آیندہ ایک عشرے کے دوران میں ملکی دفاعی صنعت پر 20 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔

یہ بات ہفتے کے روز سعودی عرب کی دفاعی صنعت کے ریگولیٹرادارے کے سربراہ احمد بن عبدالعزیز الاوہالی نے ابوظبی میں منعقدہ ایک دفاعی کانفرنس میں گفتگو کرتے ہوئے کہی ہے۔انھوں نے کہا کہ سعودی عرب اب زیادہ تر ہتھیار اور فوجی سازوسامان ملک ہی میں تیار کرنا چاہتا ہے۔وہ اپنے 50 فی صد دفاعی بجٹ کو2030ء تک اندرون ملک ہی صرف کرنا چاہتا ہے۔

جنرل اتھارٹی برائے ملٹری انڈسٹریز کے سربراہ نے کہا کہ ’’حکومت نے ایک منصوبہ وضع کیا ہے،اس کے تحت ہم آیندہ ایک عشرے کے دوران میں 10 ارب ڈالر دفاعی صنعت پر صرف کرنا چاہتے ہیں۔اتنی ہی رقم تحقیق وترقی کے منصوبوں پر صرف کی جائے گی۔‘‘

انھوں نے کہا کہ سعودی عرب 2030ء تک فوجی تحقیق اور ترقی پر اخراجات کو 0۰2 فی صد سے بڑھا کر 4 فی صد کرنا چاہتا ہے،اسی طرح فوجی اخراجات میں بھی اضافہ کرنا چاہتا ہے۔

واضح رہے کہ سعودی عرب کی جنرل اتھارٹی برائے ملٹری انڈسٹریز نے کچھ عرصہ قبل امریکا کی دفاعی سازوسامان بنانے والی کمپنی رے تھیون کے ساتھ شراکت داری کاایک سمجھوتا طے کیا تھا۔ اس کے تحت پیٹریاٹ میزائل دفاعی نظام کی سعودی عرب ہی میں مرمت اور تجدید کی جائے گی۔

یہ سمجھوتا سعودی عرب کے ویژن 2030ء کے مقاصد واہداف کے عین مطابق ہے۔اس ویژن کے تحت سعودی عرب کی معیشت کو متنوع بنایا جارہا ہے اور تیل کی دولت پر انحصار کم کرنے کے لیے مقامی سطح پرمختلف صنعتوں کو ترقی و فروغ دیا جارہا ہے۔

اس منصوبے کا مقصد عسکری اور سکیورٹی کے شعبے میں مقامی صنعت میں سرمایہ کاری کو فروغ دینا اور تعلیم یافتہ مقامی اہل افراد کے لیے روزگار کے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا کرنا ہے۔نیز اس ویژن کے تحت آیندہ ایک عشرے کے دوران میں نصف تک فوجی سازوسامان مملکت ہی میں تیار کیا جائے گا۔اس سےان کی درآمدات پر اٹھنے والے زرمبادلہ کی بچت ہوگی۔

سعودی عرب کے دفاعی شعبے اور رے تھیون کے درمیان شراکت داری گذشتہ نصف صدی سے زیادہ عرصے سے جاری ہے لیکن مذکورہ سمجھوتا اس لحاظ سے مختلف ہے کہ اس کے تحت سعودی عرب ہی میں دفاعی صنعت کو ترقی دی جائے گی۔