.

سعودی عرب کی فوجی صنعت کا لاک ہیڈ مارٹن سے دفاعی صلاحیت میں اضافے کے لیے سمجھوتا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی ملٹری انڈسٹریز(سامی) نے امریکا کی فرم لاک ہیڈ مارٹن سے دفاع اور مینوفیکچرنگ کی صلاحیتوں میں اضافے کے لیے ایک سمجھوتے پر دست خط کیے ہیں۔

اس سمجھوتے کے تحت سعودی عرب میں اسلحہ سازی کا ایک مشترکہ منصوبہ شروع کیا جائے گا۔اس میں سامی کاحصہ 51 فی صد ہوگا۔سامی سعودی عرب کے سرکاری سرمایہ کاری فنڈ کی ملکیتی ہے۔

سامی کے ایک بیان کے مطابق نئے سمجھوتے کے تحت سعودی عرب کی دفاعی صنعت کی صلاحیتوں کو ٹیکنالوجی اور علم کی منتقلی کے ذریعے ترقی دی جائے گی۔سعودی عرب کی افرادی قوت کو مصنوعات کی تیاری کے عمل کی تربیت دی جائے گی اور سعودی مسلح افواج کو خدمات مہیا کی جائیں گی۔

لاک ہیڈ مارٹن اس سمجھوتے کے علاوہ سعودی عرب میں 15 ارب ڈالر کی لاگت سے ایک میزائل دفاعی نظام بھی نصب کرے گی۔یہ منصوبہ سعودی عرب اور سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے درمیان 110 ارب ڈالر مالیت کے ایک پیکج کا حصہ تھا۔اس پیکج کے تحت سعودی عرب امریکا سے مختلف فوجی سازوسامان اور ہتھیار خرید کررہا ہے۔

واضح رہے کہ سعودی عرب دوسرے ممالک سے اسلحہ کے بڑے خریداروں میں شمار ہوتا ہے۔سامی 2017ء میں قائم کی گئی تھی۔اس کا مقصد مقامی دفاعی صنعت کو فروغ دینا ، درآمدات میں کمی اور ملازمتوں کے مزید مواقع پیدا کرنا ہے۔

سعودی عرب کی جنرل اتھارٹی برائے ملٹری انڈسٹریز نے کچھ عرصہ قبل امریکا کی دفاعی سازوسامان بنانے والی کمپنی رے تھیون سے بھی شراکت داری کاایک سمجھوتا طے کیا تھا۔ اس کے تحت پیٹریاٹ میزائل دفاعی نظام کی سعودی عرب ہی میں مرمت اور تجدید کی جائے گی۔

یہ سمجھوتا سعودی عرب کے ویژن 2030ء کے مقاصد واہداف کے عین مطابق ہے۔اس ویژن کے تحت سعودی عرب کی معیشت کو متنوع بنایا جارہا ہے اور تیل کی دولت پر انحصار کم کرنے کے لیے مقامی سطح پرمختلف صنعتوں کو ترقی دی جارہی ہے۔

اس منصوبے کا مقصد عسکری اور سکیورٹی کے شعبے میں مقامی صنعت میں سرمایہ کاری کو فروغ دینا اور تعلیم یافتہ مقامی اہل افراد کے لیے روزگار کے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا کرنا ہے۔نیز اس ویژن کے تحت آیندہ ایک عشرے کے دوران میں نصف تک فوجی سازوسامان مملکت ہی میں تیار کیا جائے گا۔اس سےان کی درآمدات پر اٹھنے والے زرمبادلہ کی بچت ہوگی۔