.

لیبیا کے وزیر داخلہ فتحی باشاغا قاتلانہ حملے میں بال بال بچ نکلے!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کی قومی اتحاد کی حکومت کے طاقتور وزیر داخلہ فتحی باشاغا پر دارالحکومت طرابلس کے نواح میں ایک شاہراہ پر قاتلانہ حملہ کیا گیا ہے لیکن وہ اس حملے میں محفوظ رہے ہیں۔

وزیر داخلہ کے قریبی ذرائع نے بتایا ہے کہ فتحی باشاغا کے قافلے پر اتوار کو ایک بکتربند کار سے فائرنگ کی گئی ہے۔ان کے قافلے کے ساتھ پولیس اسکواڈ نے حملہ آوروں پر جوابی فائرنگ کی ہے جس سے ایک حملہ آور زخمی ہوگیا ہے اور دو کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

ان ذرائع کے مطابق فتحی باشاغاخیریت سے ہیں۔ وہ وزارت داخلہ کے تحت ایک نئے سکیورٹی یونٹ کے معائنے کے لیے شہر سے باہر گئے تھے اور وہاں سے واپسی پر ان پر حملہ کیا گیا ہے۔

58 سالہ فتحی باشاغا لیبیاکی قومی اتحاد کی حکومت میں ایک طاقتور شخصیت خیال کیے جاتے ہیں۔ وہ 2018ء سے ملک کے وزیرداخلہ چلے آرہے ہیں۔انھوں نے کرپشن کےخاتمے کے لیے مہم چلائی ہے اور اس جنگ میں اپنی شہرت کو بھی داؤ پر لگا دیا ہے۔

واضح رہے کہ لیبیا میں 2011ء میں سابق مطلق العنان صدر کرنل معمر قذافی کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے طوائف الملوکی کا دور دورہ ہے۔اس وقت ملک میں دو متوازی حکومتیں چل رہی ہیں۔

طرابلس سمیت ملک کے مغربی علاقوں پر قومی اتحاد کی حکومت کا کنٹرول ہے جبکہ مشرقی شہر بنغازی اور دوسرے علاقوں میں سابق جنرل خلیفہ حفترکے زیر قیادت لیبی قومی فوج (ایل این اے) کا کنٹرول ہے۔

فتحی باشاغا کو گذشتہ سال اکتوبر میں اقوام متحد کی نگرانی میں امن مذاکرات کے بعد نئی عبوری حکومت کے لیے سب سے مضبوط امیدوار سمجھا جارہا تھا لیکن پھر نگران حکومت کی سربراہی کے لیے 61 سالہ انجنیئرعبدالحمید الدبیبہ کا انتخاب کیا گیا تھا۔انھوں نے لیبیا میں تعمیرِنو ، جمہوریت اور اتحاد کی ضرورت پر زوردیا ہے۔