.

سربیا میں جنگ کے ہتھیاروں نے موسیقی کے آلات کا رُوپ دھار لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سربیا میں کے شہر نووی ساد میں 42 سالہ مجسمہ ساز 'نکولا ماکورا' ہر ہفتے اس کھلی جگہ کا دورہ کرتا ہے جہاں ناکارہ عسکری سامان موجود ہوتا ہے۔ اس آمد و رفت کا مقصد بندوقوں، فوجی ہیلمٹوں اور ناکارہ میزائلوں کے بیچ پرانے ہتھیاروں میں ایسی اشیاء تلاش کرنا ہوتا ہے جن کو وہ اپنے نجی اسٹوڈیو منتقل کر کے انہیں موسیقی کے آلات میں تبدیل کر سکے۔

مذکورہ مجسمہ ساز نے اس علاقے میں تباہی کے ان سابقہ آلات کو جدت اور تخلیق کے وسائل میں بدل ڈالنے کی کوشش کی ہے جو ابھی تک 1990ء کی دہائی کی ان جنگوں کی یاد دلاتا ہے جنہوں نے یوگوسلاویہ کو تباہ کر دیا تھا۔

ماکورا اب تک کامیابی کے ساتھ بازوقا اور آرمی گیس بکیٹ کو 'سیلو' میں اور زیسٹاوا ایم 70 رائفل اور آرمی ہیلمٹ کو 'گٹار' میں تبدیل کرنے کے علاوہ رائفل میگزین اور فرسٹ ایڈ بکس سے 'وائلن' تیار کر چکے ہیں۔

ماکورا شمالی سربیا میں نووی سال آرٹس اکیڈمی میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ "ہمارے ہر طرف بندوقیں بکھری ہوئی ہیں۔ ہم اس حد تک تباہی میں گھرے ہوئے ہیں کہ اب اس کا احساس بھی نہیں رہا"۔

معمولی رقم کے عوض ناکارہ عسکری ساز و سامان کی فروخت اب پورے ملک میں کوئی غیر مانوس بات نہیں رہی۔ سربیا میں ہتھیاروں کے یہ قبرستان بندوقوں، بموں اور گیس کے ماسک کے علاوہ لڑائی میں استعمال ہونے والی گاڑیوں اوریہاں تک کہ جنگی طیاروں کے ضخیم ٹکڑوں سے بھرے ہوئے ہیں۔

سربین مجسمہ ساز کا ہدف ہے کہ ایک مکمل آرکسٹرا تشکیل دیا جائے جو خطے میں سفر کر کے موسیقی کے فن کا مظاہرہ کرے۔ یہاں آرکسٹرا ٹیم میں سابق عسکری اہل کار موسیقار کی صورت میں موجود ہوں۔

ماکورا نے واضح کیا کہ "میں جنگ میں شریک ہونے والوں کو ایک موقع دینا چاہتا ہوں انہوں نے جنگ میں جو ہتھیار استعمال کیے تھے اب وہ انہیں موسیقی کی تخلیق کے واسطے استعمال میں لائیں"۔

ماکورا کا اگلا منصوبہ ایک فوجی ٹینک کو Percussion instrument میں تبدیل کرنا ہے۔ یہ آلہ پانچ موسیقاروں کے لیے ہو گا۔