.

ایران نے اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں پرقدغنیں عایدکردیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران نے اقوام متحدہ کے تحت جوہری توانائی کے عالمی ادارے (آئی اے ای اے) کے معائنہ کاروں پر پابندیاں عاید کردی ہیں اور اب وہ اس کی حساس جوہری تنصیبات کا اچانک معائنہ نہیں کرسکیں گے۔

ایران نے یہ اقدام یورپی یونین اور امریکا کے صدر جو بائیڈن پر دباؤ ڈالنے کی غرض سے کیا ہے تاکہ وہ اس کے خلاف عاید کردہ سخت پابندیوں کو ختم کردیں۔ایران کے سرکاری ٹی وی نے جوہری تنصیبات کے معائنے پر پابندی کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ آئی اے ای اے کے معائنہ کاروں کے ساتھ تعاون کم کردیا گیا ہے۔

ایرانی وزیرخارجہ محمد جواد ظریف نے کہا ہے کہ آج منگل کی صبح سے قانون نافذالعمل ہوگیا ہے۔انھوں نے اس مؤقف کا اعادہ کیا ہے کہ ’’ایران اپنی جوہری تنصیبات کی نگرانی کی فوٹیج روزانہ اور ہفتہ وار بنیاد پر شیئر نہیں کرے گا۔قبل ازیں وہ ماضی میں یہ فوٹیج شیئر کرتا رہا ہے۔ہم نے آئی اے ای اے کو قانون کے نفاذ سے متعلق مطلع کردیا ہے۔‘‘

ایران کی جوہری توانائی تنظیم نے اپنی جوہری تنصیبات کی فوٹیج کو تین ماہ تک اپنے پاس رکھنے کا وعدہ کیا ہے اور کہا ہے کہ اس کے بعد اس فوٹیج کو آئی اے ای اے کے حوالے کردیا جائے گا لیکن یہ اسی صورت میں ہوگا جب ایران کو پابندیوں میں ریلیف کی ضمانت دی جائے گی۔

ایران نے آئی اے ای اے کے ساتھ طے شدہ ’’اضافی پروٹوکول‘‘ پرعمل درآمد روکنے کا بھی اعلان کیا تھا۔ عالمی ایجنسی اور تہران کے درمیان یہ خفیہ سمجھوتا تاریخی جوہری معاہدے کے حصے کے طور پر طے پایا تھا۔اس کے تحت اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں کو ایران کی جوہری تنصیبات کے معائنے اور اس کے جوہری پروگرام کی نگرانی کے زیادہ اختیارات حاصل ہوگئے تھے۔

واضح رہے کہ امریکا کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مئی 2018ء میں ایران سے طے شدہ جوہری سمجھوتے سے دستبردار ہونے کا اعلان کردیا تھا اور اس کے خلاف سخت اقتصادی پابندیاں عاید کردی تھیں۔اس کے ردعمل میں ایران نے جوہری سمجھوتے کی شرائط کی مرحلہ وار پاسداری نہ کرنے کااعلان کیا تھا اور اس نے یورینیم کو 20 فی صد تک افزودہ کرنا شروع کردیا تھا۔

ایرانی کابینہ کے ترجمان علی ربیعی نے تہران میں نیوز کانفرنس میں جوہری پروگرام میں مزید پیش رفتوں کی تفصیل بھی بیان کی ہے۔انھوں نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ ایران نے گذشتہ تین ہفتے کے دوران میں نطنز اور فردو میں واقع جوہری تنصیبات میں 148 ہائی ٹیک آئی آر2-ایم سینٹری فیوجز کونصب کیا ہے۔اب ان دونوں مقامات پر نصب شدہ سینٹری فیوجز کی تعداد 492 ہوگئی ہے۔

ترجمان نے کہا کہ مزید 492 سینٹری فیوجز آیندہ مہینوں کے دوران میں نصب کیے جائیں گے۔انھوں نے یورینیم کو افزودہ کرنے کی تنصیبات میں جدید سینیٹری فیوجز کی دو آبشاریں نصب کی ہیں لیکن انھوں نے یہ نہیں بتایا ہے کہ یہ کہاں نصب کی گئی ہیں۔

ایران کے رہبراعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے سوموار کو کہا تھا کہ ہم اپنے جوہری پروگرام کے معاملے میں امریکا کے دباؤ کے آگے نہیں جھکیں گے۔انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ایران یورینیم کو 60 فی صد تک مصفا کرسکتا ہے لیکن انھوں نے اس مؤقف کا اعادہ کیا تھا کہ ایران جوہری ہتھیار نہیں بنانا چاہتا ہے۔

ان کے اس اعلان سے ایک روز قبل ویانا میں قائم اقوام متحدہ کے تحت آئی اے ای اے نے ایران کے ساتھ ایک ڈیل طے پانے کی اطلاع دی تھی۔اس کے تحت عالمی ادارے کے معائنہ کار آیندہ تین ماہ تک ایران کی جوہری تنصیبات کا ضروری معائنہ کرسکیں گے۔اس سے پہلے ایران نے کہا تھا کہ وہ آئی اے ای اے کے انسپکٹروں کو اپنی جوہری تنصیبات کے اچانک معائنے کی اجازت نہیں دے گا۔

آئی اے ای اے کے سربراہ رافاعل گراسی نے اتوار کو ایران کے دورے کے بعد ویانا کے ہوائی اڈے پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اس امر کی بھی تصدیق کی کہ ایران منگل سے ایجنسی کے ساتھ تعاون میں کمی کرسکتا ہے۔