.

خلیج بحران کے خاتمے کے بعد قطری اور مصری وفود کے درمیان پہلی ملاقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

خلیج بحران کے خاتمے کے بعد قطراور مصر کے وفود کے درمیان منگل کے روز پہلی ملاقات ہوئی ہے۔

قطری وزارتِ خارجہ نے اطلاع دی ہے کہ دونوں ملکوں کے وفود کے درمیان کویت میں یہ ملاقات ہوئی ہے اور انھوں نے دوطرفہ تعلقات کی بحالی کے لیے مستقبل کا لائحہ عمل وضع کرنے کے لیے تبادلہ خیال کیا ہے۔

وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں مزید کہا ہے کہ ’’اجلاس میں مصر اور قطر کے درمیان دوطرفہ تعلقات کے فروغ کے لیے مشترکہ لائحہ عمل اورضروری طریق ہائے کار کے بارے میں تبادلہ خیال کیا گیا ہے تاکہ دونوں ملکوں کے عوام کی امنگوں کے مطابق سلامتی ، استحکام اور ترقی کے مقاصد حاصل کیے جاسکیں۔‘‘

قبل ازیں قطر کے ایک وفد نے سوموار کو کویت ہی میں متحدہ عرب امارات کے ایک وفد سے ملاقات کی تھی۔دونوں وفودنے خلیجی ممالک کے درمیان تعاون کے فروغ کے لیے بات چیت کی تھی۔ان دونوں ملکوں کے درمیان العلاء اعلامیے کے بعد یہ پہلا باضابطہ رابطہ تھا۔

واضح رہے کہ مصر کے علاوہ سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات اور بحرین نے جون 2017ء میں قطرسے سفارتی ، تجارتی اور کاروباری تعلقات منقطع کر لیے تھے اوراس کے ساتھ ہرقسم کے ٹریفک پر بھی پابندی عاید کردی تھی۔انھوں نے قطر پرایران کی قُربت اختیار کرنے اورالاخوان المسلمون سمیت انتہاپسند گروپوں کی معاونت کا الزام عاید کیا تھا جبکہ قطر نے ان الزامات کی تردید کی تھی۔

ان چاروں ممالک نے پانچ جنوری کو سعودی عرب کے تاریخی شہر العلاء میں خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے سالانہ سربراہ اجلاس کے موقع پر قطر سے تعلقات بحال کرنے سے اتفاق کیا تھا اور ان کے درمیان ایک سمجھوتا طے پایا تھا۔

اس کے تحت مذکورہ چاروں ممالک نے قطر کے خلاف عاید کردہ پابندیاں ختم کردی ہیں اوراس کے ساتھ سفارتی اور کاروباری تعلقات بحال کر لیے ہیں۔اس کے بعد یو اے ای اور سعودی عرب نے قطر کے ساتھ اپنی سرحدیں دوبارہ کھول دی تھیں اوران پانچوں ممالک کے درمیان پروازیں بھی بحال ہوچکی ہیں۔