.

یمن:حوثی عدالت سے سزائے موت پانے والے چار صحافیوں کے خلاف دوبارہ مقدمہ چلے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے دارالحکومت صنعاءمیں حوثی ملیشیا کی انتظامیہ کے تحت فوجداری اپیل کورٹ نے سزائے موت پانے والے چار صحافیوں کے خلاف دوبارہ مقدمہ چلانے کا اعلان کیا ہے۔

ان صحافیوں کے وکیل عبدالمجید صبرہ نے سوشل میڈیا پر اطلاع دی ہے کہ اپیل کورٹ نے ان چاروں زیر حراست صحافیوں کے خلاف مقدمہ کی دوبارہ سماعت کے لیے سات مارچ کی تاریخ مقرر کی ہے۔

ان صحافیوں عبدالخالق عمران ،اکرم ال ولیدی ، حارث حامد اور توفیق المنصوری کو پانچ سال قبل حوثی ملیشیا نے اغوا کرلیاتھا۔قبل ازیں حوثیوں کی اسی اپیل عدالت نے اپریل 2020ء میں انھیں ابتدائی سماعت کے بعد سزائے موت کا حکم دیا تھا۔

اس فیصلے کے خلاف انسانی حقوق کے گروپوں اور صحافتی تنظیموں نے سخت ردعمل کا اظہارکیا تھا۔بین الاقوامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق نے ان چاروں کی فوری اورغیر مشروط رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔اس نے کہا تھا کہ ان چاروں صحافیوں کو محض یمن جنگ کی خبریں دینے کی پاداش میں گرفتار کیا گیا تھا۔

اس تنظیم نے مزید کہا تھا کہ ’’2015ء میں گرفتاری کے بعد سے ان پیشہ ور صحافیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے اور انھیں جان لیوا ماحول میں رکھا جارہا ہے جس سے ان کی صحت بگڑ چکی ہے۔‘‘

یمنی صحافیوں کے سینڈیکیٹ کی حالیہ رپورٹ کے مطابق جنگ زدہ ملک میں صحافیوں کو اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کے دوران میں گوناگوں مسائل ،رکاوٹوں اور پابندیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔انھیں قتل ،تشدد اوراغوا ایسے خطرات کا سامنا ہے۔اس کے علاوہ میڈیا اداروں کے دفاتر پر حملے کیے جاتے ہیں اور ان کے معمول کے کام میں رکاوٹیں حائل کی جاتی ہیں۔