.

امریکا سعودی عرب کی دفاعی صلاحیتیں بڑھانے میں مدد دے گا:سینٹکام چیف

سعودی عرب کے میزائل دفاعی نظام کو ہمسایہ ممالک اور امریکا سے مربوط بنانے کے لیے کام کیا جارہا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے سعودی عرب میں قریباً تین ہزار فوجی تعینات ہیں اور وہ الریاض کی دفاعی صلاحیتوں میں اضافے کے لیے کام جاری رکھے گا۔

سعودی عرب کو یہ یقین دہانی امریکا کی مرکزی کمان کے سربراہ جنرل کینتھ میکنزی نے کرائی ہے۔ بیروت انسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام بدھ کو ایک ویبی نار میں گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’’امریکا سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو بڑی اہمیت دیتا ہے۔اس نے 2019ء کے بعد سعودی عرب میں متعدد فضائی دفاعی نظام نصب کیے ہیں۔ان میں ٹرمینل ہائی آلٹی ٹیوڈ ایریا ڈیفنس (تھاڈ) بیٹری ،دو پیٹریاٹ میزائل بیٹریز اور دوسرے نظام شامل ہیں۔‘‘

انھوں نے شرکاء کو بتایا کہ ’’امریکا سعودی عرب کے فضائی دفاعی نظام کو بہتربنانے اور اس کو خطے کے دوسرے ممالک میں نصب میزائل دفاعی نظاموں سے مربوط بنانے کے لیے کام کررہا ہے۔اس کے علاوہ اس کو امریکا کے میزائل دفاعی نظام سے بھی مربوط بنایا جارہا ہے۔‘‘

جنرل کینتھ میکنزی کا کہنا تھا کہ امریکا کے لڑاکا اسکواڈرن سعودی عرب میں باری باری کی بنیاد پر موجود رہتے ہیں۔

جب ان سے یمن کی صورت حال اور وہاں سے حوثیوں کے سعودی عرب کی جانب میزائل اور ڈرون حملوں کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ امریکا گذشتہ 30 روز کے دوران میں حوثیوں کے سعودی عرب کے خلاف حملوں کی شدت سے آگاہ ہے۔

انھوں نے کہا کہ یہ پیش رفت نمایاں اہمیت کی حامل ہے اور ان حملوں سے یمن میں جاری بحران کے پُرامن حل میں کوئی مدد نہیں ملے گی۔

امریکی جنرل نے کہا:’’ یہ میرا یقین ہے،سعودی عرب یمن میں جاری بحران کا مذاکرات کے ذریعے سیاسی حل چاہتا ہے۔‘‘ان کا مزید کہنا تھا کہ ’’یمن سے سعودی عرب کی جانب داغے جانے والے ہتھیاروں پر ایرانی انگلیوں کے نشانات ہیں۔‘‘