.

اٹلی: لینڈ سلائیڈنگ سے دو گرجا گھر اور قبرستان سمندر برد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اٹلی میں بحیرہ روم کے کنارے پر واقع 'جنویٰ' شہر میں 'کموگلی' کے مقام پر زمین کھسکنے کے نتیجے میں اچانک دو گرجا گھروں کی عمارتیں اور ان سے متصل قبرستان سمندر برد ہوگئے جس کے نتیجے میں سیکڑوں قبروں میں موجود تابوت اور لاشیں سمندر میں تیرنے لگیں۔

مقامی ذرائع ابلاغ میں آنے والی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ جنویٰ شہر سے 12 کلو میٹر کی مسافت پر واقع سیاحتی مقام کے قریب اچانک زمین پھلسنے لگی اور قبرستان سے متصل دو چرچ اور سیکڑوں قبریں پانی میں بہہ گئیں۔ مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ انہیں عمارتوں کے منہدم ہونےکی آواز آئی جس پر انہیں دیکھا کہ سمندر کے کنارے دو گرجا گھر پانی میں بہہ گئے۔ گرجا گھروں کے قریب موجود 200 قبروں میں موجود تابوت سمندر میں تیرنے لگے۔

مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ لینڈ سلائیڈنگ کے باعث قبرستان اور گرجا گھروں کا منہدم ہونا ان کے لیے ایک صدمے کا باعث ہے کیونکہ ان کے پیاروں کی قبریں سمندر میں‌بہہ گئیں اور ان کے تابوت پانی پر تیرتے رہے۔

کلوز سرکٹ کیمرے کی مدد سے لی گئی ایک ویڈیو بھی سامنے آئی ہے جس میں گرجا گھر کی عمارت کو منہدم ہوتے دیکھا جا سکتا ہے۔ ایک مقامی نیوز ویب پورٹل 'Genova24' نے حکام کے حوالے سے بتایا کہ یہ واقعہ سمندر کے باعث ساحلی علاقے کے کٹائو کا نتیجہ ہوسکتا ہے۔ یہ کٹائو'لیگوریا' نامی علاقے میں سمندری طوفان کے باعث ہوا ہے۔

پانی میں بہہ جانے والے گرجا گھروں میں موجود میتوں سے متعلق سامان اور دیگر اشیا بھی شامل ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ساحل کے قریب واقع یہ قبرستان 27 میٹر بلند ہے اور قبرستان سے نچلی جانب 10 دیگر مکانات ہیں جب میں سے تین میں لوگ رہتے ہیں۔ ایک مقامی خاتون نے چیختے ہوئے اطالوی خبر رساں ادارے 'اے این ایس اے' کو بتایا کہ وہ دوسری مرتبہ مرچکی ہے۔ اس کا اشارہ اپنے ایک قریبی عزیز کی قبر کے تباہ ہونے اور اس کے تابوت کے پانی میں بہہ جانے کی طرف تھا۔