.

ایران عرصہ دراز سے حوثی باغیوں کو اسلحہ سپلائی کررہا ہے: امریکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے بارے میں امریکی انتظامیہ کی پالیسی دو اہم محوروں تک محدود رہی ہے۔ پہلا محور یمنی عوام کی مدد اور دوسرا یمن میں دہشت گردی کے خلاف جنگ ہے۔

تاہم حوثی ملیشیا کی طرف سے سعودی سرزمین کو نشانہ بنانے کی بار بار کی جانے والی کوششوں اور مارب گورنری پر ان کے حملوں کے بعد امریکا کی حوثی باغیوں کے خلاف پوزیشن کے بارے میں فوری طور پر سوالات پیدا ہوئے۔ امریکی حکومت نے حوثی باغیوں کے حوالے سے ٹھوس اور اصولی موقف اپناتے ہوئے انہیں دہشت گرد قرار دیا ہے۔

امریکی محکمہ دفاع 'پینٹا گان'کی ترجمان کمانڈر جیسکا مانولٹی نے کہا ہے کہ ایران عرصہ دراز سے یمن کے حوثی کے حوثی باغیوں‌کو اسلحہ اور گولہ بارود پہنچا رہا ہے۔امریکی محکمہ دفاع کی ترجمان سے پوچھا گیا تھا کہ آیا حوثی باغی میزائل شکن ہتھیار اور بمبار ڈرون طیاروں جیسی ٹیکنالوجی حاصل کررہے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ حوثیوں نے حالیہ عرصے کے دوران دفاعی ٹیکنالوجی میں کافی ترقی کی ہے تاہم ایران حوثی باغیوں کو اسلحہ اور ہتھیاروں کی فراہمی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ تاہم امریکی محکمہ دفاع کی ترجمان نے حوثیوں کے ہاں تیار ہونے والی ٹیکنالوجی اور اس کو بہتر بنانے کے طریقوں کی تفصیل نہیں بتائی۔

مبصرین کا خیال ہے کہ حوثی باغیوں کے پاس موجود میزائل اور ڈرون طیارے ایران کےمیزائل پروگرام کا حصہ ہیں۔ گذشتہ برسوں کے دوران عراق، شام اور یمن میں استعمال ہونے والے ہتھیاروں میں بڑی تعداد ایرانی ساختہ بتائی جاتی رہی رہے۔ یمن کے ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغی سعودی عرب پر حملوں کے لیے بھی ایرانی ساختہ ہتھیار ہی استعمال کرتے ہیں۔

امریکا اور سعودی عرب نے حوثٰیوں‌کے زیراستعمال ہتھیاروں کے نمونے عالمی برادری کو دکھائے ہیں۔ ان میں استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی ایران سے حاصل کی گئی ہے۔ امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں حوثیوں کے استعمال شدہ ہتھیاروں کے دکھائے گئے نمونوں میں یہ ثابت کیا گیا ہے کہ ایران ہی حوثیوں کو اسلحہ کی سپلائی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔